ایران اور امریکا کو فوری جنگ بندی کی پاکستانی تجاویز موصول

منصوبہ دونوں ممالک کو پیش کیا گیا ہے جو پیر کو نافذ العمل ہو سکتا ہے: برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز
اپ ڈیٹ 06 اپريل 2026 02:12pm

ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی کے خاتمے کے لیے ایک اہم سفارتی پیش رفت سامنے آئی ہے، جس کے تحت ایک ایسا منصوبہ دونوں ممالک کو پیش کیا گیا ہے جو پیر کو نافذ العمل ہو سکتا ہے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کا راستہ ہموار کر سکتا ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق دونوں فریقین کے درمیان جنگ بندی کے خاتمے کے لیے ایک فریم ورک پاکستان نے تیار کیا ہے جسے ایران اور امریکا کے ساتھ شیئر کیا گیا ہے۔

اس منصوبے میں دو مراحل پر مشتمل حکمت عملی شامل ہے، جس کے تحت پہلے فوری جنگ بندی اور اس کے بعد ایک جامع معاہدہ طے کیا جائے گا۔

رپورٹ کے مطابق تمام نکات پر آج ہی اتفاق ضروری ہے اور ابتدائی مفاہمت کو ایک مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کی شکل دی جائے گی۔ ان مذاکرات میں پاکستان واحد رابطہ چینل کے طور پر کردار ادا کر رہا ہے۔

رائٹرز کے مطابق پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر رات بھر امریکی نائب صدر جے ڈی وینس، خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے مسلسل رابطے میں رہے۔

امریکا ایران اور علاقائی ثالثوں کے درمیان ممکنہ طور پر 45 روزہ جنگ بندی پر بھی بات چیت جاری ہے، جو دو مرحلوں پر مشتمل ایک ایسے معاہدے کا حصہ ہو سکتی ہے جو بالآخر جنگ کے مستقل خاتمے پر نتیجہ خیز ہو۔

منصوبے کے تحت فوری جنگ بندی کے ساتھ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھول دیا جائے گا، جبکہ 15 سے 20 دن کے اندر ایک وسیع تر تصفیہ طے کیا جائے گا۔

حتمی معاہدے میں ایران کی جانب سے جوہری ہتھیاروں کے حصول سے دستبرداری کے عزم کے بدلے پابندیوں میں نرمی اور منجمد اثاثوں کی رہائی شامل ہو سکتی ہے۔

مجوزہ معاہدے کو عارضی طور پر اسلام آباد اکارڈ کا نام دیا گیا ہے، جس میں آبنائے ہرمز کے لیے علاقائی فریم ورک شامل ہوگا اور حتمی بالمشافہ مذاکرات اسلام آباد میں متوقع ہیں۔

تاہم اس حوالے سے امریکی اور ایرانی حکام کی جانب سے فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

پاکستان کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان طاہر حسن اندرانی نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے ایران کے خلاف جاری امریکی و اسرائیلی جنگ کے خاتمے کے لیے کسی مجوزہ فریم ورک کی تصدیق یا تردید کرنے سے انکار کیا۔

واضح رہے کہ ایرانی حکام اس سے قبل کہہ چکے ہیں کہ تہران ایک مستقل جنگ بندی کا خواہاں ہے، بشرطیکہ اسے اس بات کی ضمانت دی جائے کہ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے دوبارہ حملہ نہیں کیا جائے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ ایران کو پاکستان، ترکی اور مصر سمیت مختلف ثالثوں کی جانب سے پیغامات موصول ہوئے ہیں۔