آبنائے ہرمز میں پھنسے بحری جہاز عمانی سمندری راستہ کیوں استعمال نہیں کر رہے؟
عالمی نقشے پر آبنائے ہرمز اس وقت خبروں کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ محض 39 کلومیٹر چوڑی یہ سمندری گزرگاہ دنیا بھر کے تیل کی تجارت کا تقریباً پانچواں حصہ سنبھالتی ہے اور ایران نے اس پر ناکہ بندی کی ہوئی ہے۔ اس سنگین صورتحال میں بہت سے لوگ یہ سوال کرتے ہیں کہ کیا بحری جہاز آبنائے ہرمز کے بجائے اس کے ساتھ واقع عمان کے علاقے مسندم کو متبادل کے طور پر استعمال نہیں کر سکتے؟
اس کا جواب جغرافیہ، تاریخ اور دشوار گزار راستوں میں چھپا ہے۔
جزیرہ نما مسندم عمان کا وہ حصہ ہے جو جغرافیائی طور پر اپنے ملک سے کٹا ہوا ہے اور متحدہ عرب امارات کے درمیان واقع ہے۔
اسے ’عرب کا ناروے‘ بھی کہا جاتا ہے کیونکہ اس کا ساحل ناروے کی طرح گہری کھائیوں اور سمندر میں ڈوبی ہوئی پہاڑی چوٹیوں پر مشتمل ہے۔
یہ علاقہ دیکھنے میں جتنا خوبصورت ہے، جہاز رانی کے لیے اتنا ہی مشکل ہے۔
یہاں ہاجر کے پہاڑ براہِ راست سمندر میں اترتے ہیں، جس کی وجہ سے ساحل کے ساتھ ہموار زمین یا بندرگاہوں کے لیے جگہ نہ ہونے کے برابر ہے۔
یہاں کی بلند و بالا چٹانیں اور سمندری کٹاؤ بڑے کارگو جہازوں کو لنگر انداز ہونے یا گزرنے کا راستہ فراہم نہیں کرتے، یہی وجہ ہے کہ تمام عالمی ٹریفک کو آبنائے ہرمز کے تنگ لیکن گہرے راستے پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔

تاریخی طور پر مسندم ہمیشہ سے عمان کا حصہ رہا ہے۔
سترہویں صدی میں جب عمانی حکمرانوں نے بحرِ ہند اور مشرقی افریقہ تک اپنی سمندری طاقت پھیلائی، تو مسندم پر ان کا قبضہ اس اہم ترین راستے پر نظر رکھنے کے لیے کلیدی حیثیت رکھتا تھا۔
انیسویں اور بیسویں صدی میں جب برطانیہ نے اس خطے کے قبائلی علاقوں کے ساتھ سرحدیں طے کیں، تو مسندم کے لوگوں نے متحدہ عرب امارات کے بجائے عمان کے سلطان کے ساتھ رہنے کو ترجیح دی۔
اسی وجہ سے آج یہ علاقہ عمان کا ایک الگ تھلگ ٹکڑا (ایکسکلیو) کہلاتا ہے، جہاں تک پہنچنے کے لیے یا تو متحدہ عرب امارات کی سرحد پار کرنی پڑتی ہے یا پھر سمندری راستہ اختیار کرنا پڑتا ہے۔
سیاحت کے لحاظ سے مسندم ایک جنت نظیر مقام ہے۔
یہاں کی خاموش نیلی لہروں میں ڈولفن کے غول تیرتے نظر آتے ہیں اور روایتی لکڑی کی کشتیاں ’دھو‘ سیاحوں کو پہاڑوں کے درمیان بنے قدرتی راستوں کی سیر کرواتی ہیں۔
یہاں کا خاص مقام ’ٹیلی گراف آئی لینڈ‘ ہے، جو کبھی برطانوی دور میں مواصلاتی مرکز تھا اور اب غوطہ خوری کے لیے مشہور ہے۔ تاہم موجودہ جنگی حالات نے یہاں کی سیاحت کو بھی متاثر کیا ہے۔
اگرچہ سرحدیں اب بھی کھلی ہیں اور دبئی سے آنے والے سیاح یہاں کا رخ کر رہے ہیں، لیکن سمندر میں جنگی جہازوں کی بڑھتی ہوئی نقل و حرکت اور تناؤ کی وجہ سے لوگ اب محتاط ہو گئے ہیں۔
مسندم اپنی جگہ ایک اہم عسکری اور سیاحتی مقام تو ہو سکتا ہے، لیکن اس کا دشوار گزار جغرافیہ اسے آبنائے ہرمز کا متبادل بننے کی اجازت نہیں دیتا۔













