تارکین وطن کی کشتی ڈوب گئی، 6 پاکستانی لاپتہ
لیبیا سے اٹلی جانے کی کوشش میں تارکین وطن کی ایک کشتی سمندر میں حادثے کا شکار ہو گئی ہے جس کے نتیجے میں صوبہ پنجاب کی تحصیل پھالیہ سے تعلق رکھنے والے چھ نوجوان لاپتہ ہو گئے ہیں۔
یہ کشتی چار اپریل کو لیبیا سے روانہ ہوئی تھی جس میں مجموعی طور پر 105 افراد سوار تھے۔ اس المناک واقعے کے بعد متاثرہ خاندانوں میں کہرام مچ گیا ہے اور علاقے کی فضا سوگوار ہے۔
لاپتہ ہونے والے چھ نوجوانوں میں سے چار کا تعلق ایک ہی گاؤں ٹھٹہ کدھیوالہ سے ہے جن میں طیب عباس گھمن، عرفان ورک، تنویر صادق اور فیضان ساجد شامل ہیں۔
ان کے علاوہ پنڈی لالہ کے رہائشی اقبال ارشد اور سعد ظفر بھی لاپتہ افراد کی فہرست میں شامل ہیں۔
ان نوجوانوں کے والدین اور اہل خانہ اپنے پیاروں کی سلامتی کے لیے دعائیں کر رہے ہیں اور انہوں نے حکومت پاکستان سے اپیل کی ہے کہ ان کی تلاش اور واپسی کے لیے فوری طور پر سفارتی سطح پر اقدامات کیے جائیں۔
اس حادثے میں اب تک کی اطلاعات کے مطابق 30 افراد اپنی جانیں بچا کر اٹلی کے پناہ گزین کیمپ پہنچنے میں کامیاب رہے ہیں جن میں زیادہ تر افغان باشندے بتائے جاتے ہیں۔
خوش قسمتی سے ان بچ جانے والوں میں پھالیہ کا ایک نوجوان عمران اصغر گھمن بھی شامل ہے جس نے پہلے پاکستان سے قطر کا ویزا لگوایا اور پھر وہاں سے غیر قانونی راستے کے ذریعے اٹلی کے لیے روانہ ہوا۔
تاہم 75 سے زائد افراد اب بھی لاپتہ ہیں جن کی تلاش کے لیے سمندر میں ریسکیو آپریشن جاری ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اس پورے واقعے کے پیچھے مبینہ طور پر ایک انسانی اسمگلر ملوث ہے جس کا نام عمران بتایا جا رہا ہے اور وہ خود بھی پھالیہ کے گاؤں کدھیوالہ کا ہی رہائشی ہے۔
متاثرہ خاندانوں نے وزیراعظم اور وزیر خارجہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس معاملے میں مداخلت کریں تاکہ لاپتہ نوجوانوں کے بارے میں درست معلومات حاصل کی جا سکیں۔
















