امریکی ایوانِ نمائندگان میں ٹرمپ کے جنگی اختیارات محدود کرنے کی کوشش ناکام

امریکا میں ایران جنگ پر صدارتی اختیارات کا تنازع شدت اختیار کر گیا
شائع 09 اپريل 2026 11:19pm

امریکی ایوان نمائندگان میں ریپبلکن ارکان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران کے خلاف جنگی اختیارات محدود کرنے کی ڈیموکریٹس کی کوشش ایک بار پھر ناکام بنا دی، جس سے کانگریس میں سیاسی کشیدگی بڑھ گئی ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق امریکی ایوانِ نمائندگان میں مختصر اجلاس کے دوران ریپبلکن رکن کرس اسمتھ نے کارروائی ختم کر دی، جس کے باعث ڈیموکریٹس کو قرارداد پیش کرنے کا موقع نہ مل سکا۔ یہ قرارداد صدر کو فوجی کارروائی سے قبل کانگریس کی منظوری کا پابند بنانے کے لیے پیش کی جا رہی تھی۔

ڈیموکریٹس کی جانب سے حالیہ مہینوں میں متعدد بار ایسی قراردادیں پیش کی جا چکی ہیں، جن کا مقصد ایران سمیت دیگر ممالک کے خلاف فوجی کارروائیوں پر صدارتی اختیارات کو محدود کرنا تھا، تاہم یہ تمام کوششیں ناکام رہی ہیں۔

رپورٹس کے مطابق صدر ٹرمپ کے حالیہ بیانات، جن میں انہوں نے ایران کے حوالے سے سخت انتباہ دیا، کے بعد ڈیموکریٹس کی تشویش میں اضافہ ہوا ہے اور بعض ارکان نے ان کے خلاف کارروائی کا بھی مطالبہ کیا ہے۔

دوسری جانب وائٹ ہاؤس کا مؤقف ہے کہ صدر کو بطور کمانڈر اِن چیف محدود نوعیت کی فوجی کارروائیوں کا اختیار حاصل ہے اور یہ اقدامات قانونی دائرے میں آتے ہیں۔

واضح رہے کہ امریکی آئین کے تحت جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار کانگریس کے پاس ہے تاہم ہنگامی یا محدود فوجی کارروائیوں میں صدر کو کچھ اختیارات حاصل ہوتے ہیں، جس پر دونوں جماعتوں کے درمیان اختلاف برقرار ہے۔

واضح رہے کہ 1973 کے وار پاورز ریزولوشن کے تحت کانگریس کو کسی غیر منظور شدہ فوجی تنازع کے آغاز کے 60 دن کے اندر فیصلہ کرنا ہوتا ہے، جس سے ایران کے معاملے پر قانون سازوں پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔