امریکی خاتونِ اوّل میلانیا ٹرمپ کی ایپسٹین سے تعلق کی سختی سے تردید
امریکی خاتون اوّل میلانیا ٹرمپ نے بدنام زمانہ مجرم جیفری ایپسٹین کے ساتھ اپنے تعلقات کی خبروں کو جھوٹا پروپیگنڈہ قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔ انہوں نے امریکی کانگریس سے مطالبہ کیا ہے کہ ایپسٹین کا شکار بننے والی متاثرہ خواتین کے لیے ایک عوامی سماعت منعقد کی جائے تاکہ وہ کھل کر اپنا موقف پیش کر سکیں۔
سی این این کے مطابق میلانیا ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں ایک غیر معمولی بیان دیتے ہوئے واضح کیا کہ ان کا یا ان کی ساتھی غسلین میکسویل کے ساتھ کوئی تعلق نہیں رہا۔ انہوں نے کہا کہ نیویارک اور پام بیچ کے سماجی حلقوں میں ایک ہی تقریبات میں مدعو ہونا ایک عام بات ہے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ان کے درمیان کوئی ذاتی دوستی تھی۔
میلانیا ٹرمپ کے اس بیان نے سیاسی حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے، کیونکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ اس معاملے کو ماضی کا حصہ قرار دے کر پسِ پشت ڈالنے کی کوشش کر رہے تھے۔ دوسری جانب، میلانیا ٹرمپ آن لائن گردش کرنے والی خبروں اور جعلی تصاویر سے شدید نالاں تھیں اور اپنے وکلاء کے مشورے پر انہوں نے باضابطہ تردید ریکارڈ کروانے کا فیصلہ کیا۔
خاتون اول نے کہا کہ ایپسٹین کی وجہ سےزیادتی کا شکار بننے والی ہر خاتون کو کانگریس میں حلف اٹھا کر گواہی دینے کا موقع دیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ ہر متاثرہ خاتون کی کہانی کو عوامی سطح پر سنا جائے تاکہ سچائی سب کے سامنے آ سکے۔ میلانیا ٹرمپ نے مزید زور دیا کہ ان بیانات کو ہمیشہ کے لیے پارلیمانی ریکارڈ کا حصہ بنایا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہو سکیں۔
میلانیا ٹرمپ کے اس مطالبے کو امریکی ایوان میں ڈیموکریٹس اور ریپبلکنز دونوں جانب سے حمایت حاصل ہو رہی ہے، تاہم بعض متاثرین کے گروپس کا کہنا ہے کہ یہ محض توجہ ہٹانے کی ایک کوشش ہے۔ خاتون اول نے واضح کیا ہے کہ وہ ماضی میں بھی ان جھوٹے الزامات پر قانونی چارہ جوئی کر کے معافی نامے منگوا چکی ہیں اور وہ اب اس معاملے پر مزید خاموش نہیں رہیں گی۔











