برطانوی بادشاہ چارلس کی امریکا کو خاموش لیکن بھرپور وارننگ
برطانیہ کے شاہ چارلس سوم نے امریکی کانگریس کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انتہائی نپے تلے مگر کھلے الفاظ میں امریکا کو اس کی اپنی جمہوری اقدار، قانون کی حکمرانی اور عالمی مثال بننے کی طاقت یاد دلائی ہے۔
اگرچہ شاہی آداب کے مطابق برطانوی بادشاہ براہِ راست سیاسی تنقید سے گریز کرتے ہیں، تاہم منگل کے روز ہونے والا یہ خطاب غیر معمولی طور پر واضح تھا۔
شاہ چارلس نے اگرچہ صدر ٹرمپ کی انتظامیہ پر کوئی براہِ راست نکتہ چینی نہیں کی، لیکن انہوں نے مغربی جمہوریت کے ستونوں، جیسے کہ باہمی اتحاد، رواداری اور اندرونی چیک اینڈ بیلنس کا دفاع کر کے موجودہ امریکی سیاسی سمت پر ایک طرح سے خاموش ناپسندیدگی کا اظہار کیا۔
اپنے خطاب میں شاہ چارلس نے یوکرین کے مضبوط دفاع اور قدرت کے تحفظ پر زور دیا، جسے موسمیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے صدر ٹرمپ کے خیالات کے برعکس ایک اشارہ سمجھا جا رہا ہے۔
برطانوی بادشاہ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ دوست ممالک کے درمیان اختلافات ہو سکتے ہیں لیکن اس سے ان کے دیرینہ تعلقات نہیں ٹوٹنے چاہئیں۔

یہ بات انہوں نے ایک ایسے وقت میں کہی جب ایران جنگ میں برطانیہ کی شمولیت سے انکار پر امریکا اور برطانیہ کے تعلقات میں تناؤ دیکھا جا رہا ہے۔
شاہ چارلس کا کہنا تھا کہ امریکا کے الفاظ وزن اور معنی رکھتے ہیں، جیسا کہ آزادی کے وقت سے تھا، لیکن اس عظیم قوم کے اقدامات اس سے بھی زیادہ اہمیت کے حامل ہیں۔
شاہ چارلس نے اپنے میزبانوں کے لیے گہرے احترام کا اظہار بھی کیا۔ انہوں نے صدر ٹرمپ کے ان الفاظ کا حوالہ دیا کہ امریکا اور برطانیہ کا رشتہ ’انمول اور ابدی‘ ہے۔
اس دورے کے دوران بادشاہ نے صدر ٹرمپ کو ایک منفرد تحفہ بھی پیش کیا، جو کہ دوسری جنگ عظیم کے دوران خدمات انجام دینے والے برطانوی بحری جہاز ’ایچ ایم ایس ٹرمپ‘ کی اصل گھنٹی تھی۔

بادشاہ نے مزاحیہ انداز میں کہا کہ اگر آپ کو کبھی ہماری ضرورت پڑے تو بس اس گھنٹی کو بجا دیجیے گا۔
وائٹ ہاؤس نے اس موقع پر دونوں رہنماؤں کی تصویر شیئر کرتے ہوئے ’ٹو کنگز‘ (دو بادشاہ) کا عنوان دیا، جس پر ناقدین نے یہ بحث چھیڑ دی کہ کیا یہ صدر کے شاہانہ اختیارات کی طرف اشارہ ہے۔
ٹرانس اٹلانٹک پالیسی سینٹر کے ڈائریکٹر گیریٹ مارٹن نے اس خطاب پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک بادشاہ کی طرف سے صدر کو یہ بتانے کی کوشش لگتی ہے کہ وہ خود کو بادشاہ کی طرح نہ سمجھیں۔
شاہ چارلس کا یہ دورہ ایک ایسے وقت میں ہوا جب ٹرمپ انتظامیہ پر آمرانہ رویوں کے الزامات لگ رہے ہیں، جیسے کہ سیاسی مخالفین پر مقدمات اور سرکاری دستاویزات بشمول پاسپورٹ پر صدر کی تصویر کی شمولیت۔
ماہرین کے مطابق شاہی خاندان کی یہ سفارت کاری محض دکھاوا نہیں بلکہ یہ ایک ایسی طاقت ہے جو ان دروازوں کو بھی کھول سکتی ہے جو عام سیاست دانوں کے لیے بند ہوتے ہیں۔
شاہ چارلس نے نیٹو اتحادیوں کے دفاع میں بھی بات کی اور ان الزامات کو مسترد کیا کہ اتحادی ممالک قربانیاں نہیں دیتے۔
انہوں نے نائن الیون کے بعد برطانیہ کی امریکا کے ساتھ کھڑے ہونے کی تاریخ یاد دلائی۔
صدر ٹرمپ نے بھی شاہی خاندان کے لیے اپنی عقیدت کا اظہار کیا اور دوسری جنگ عظیم کے دوران چرچل اور روزویلٹ کے اتحاد کا ذکر کرتے ہوئے انسانی آزادی کے مشن کو جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔
خطاب کے اختتام پر شاہ چارلس نے ابراہم لنکن کا حوالہ دیتے ہوئے خبردار کیا کہ دنیا شاید ہماری کہی ہوئی باتوں کو یاد نہ رکھے، لیکن ہم جو کچھ کرتے ہیں اسے کبھی فراموش نہیں کیا جائے گا۔










