کروز شپ پر ہنٹا وائرس مزید پھیلنے کا خدشہ، مختلف ممالک نے نگرانی بڑھا دی

ماہرین اس وائرس اور اس کے پھیلاؤ کا باریک بینی سے مطالعہ کر رہے ہیں، کل تفصیلی رپورٹ شائع کی جائے گی: ٹرمپ
شائع 08 مئ 2026 09:47am

دنیا بھر کے ممالک نے ہنٹا وائرس کے مزید پھیلاؤ کو روکنے کے لیے نگرانی اور رابطہ ٹریسنگ کا عمل تیز کر دیا ہے۔ بحراوقیانوس میں سفر کرنے والے کروز شپ ”ایم وی ہونڈیئس“ پر ہنٹا وائرس کے پھیلاؤ کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔ جہاں اب تک آٹھ افراد میں وائرس سے متاثر ہونے یا اس کا شبہ ظاہر کیا گیا ہے، جبکہ تین افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق ایم وی ہونڈیئس نامی کروز شپ پر اب تک تین افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں ایک ڈچ جوڑا اور ایک جرمن شہری شامل ہیں۔ ادارے کا کہنا ہے کہ پانچ افراد میں وائرس کی تصدیق ہو چکی ہے جبکہ مزید تین مشتبہ کیسز سامنے آئے ہیں۔

ہنٹا وائرس عموماً چوہوں اور دوسرے چھوٹے جانوروں کے ذریعے پھیلتا ہے، تاہم بعض صورتوں میں یہ ایک انسان سے دوسرے انسان میں بھی منتقل ہو سکتا ہے۔ متاثرہ افراد میں پائی جانے والی وائرس کی قسم ”اینڈین اسٹرین“ کہلاتی ہے، جس میں محدود حد تک انسان سے انسان میں منتقلی کی صلاحیت موجود ہوتی ہے۔

جہاز نے 24 اپریل کو جنوبی بحر اوقیانوس میں واقع سینٹ ہیلینا جزیرے پر قیام کیا تھا، جہاں اترنے والے تمام مسافروں سے رابطہ کیا جا چکا ہے۔ شپ آپریٹر کے مطابق ان افراد کا تعلق کم از کم 12 ممالک سے تھا، جن میں برطانیہ اور امریکا کے شہری بھی شامل ہیں۔ اس وبا کا پہلا تصدیق شدہ کیس مئی کے آغاز میں سامنے آیا تھا۔

عالمی ادارۂ صحت نے واضح کیا ہے کہ عام عوام کے لیے خطرہ کم ہے۔ ادارے کی وبائی امراض کی ڈائریکٹر ماریا وان کیرخوف نے کہا کہ یہ صورتِ حال کورونا وائرس جیسی نہیں ہے اور دونوں وائرس ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات کو چھ سال پہلے کی عالمی وبا سے نہیں جوڑا جانا چاہیے۔

کروز شپ اس وقت کینری آئی لینڈز کی جانب روانہ ہے، جہاں ہفتے یا اتوار تک پہنچنے کی توقع ہے۔ جہاز پر موجود درجنوں مسافروں میں اس وقت کسی قسم کی علامات ظاہر نہیں ہوئیں۔ عالمی ادارۂ صحت ان مسافروں کے اترنے اور اپنے اپنے ممالک واپسی کے عمل کے لیے رہنما اصول تیار کر رہا ہے۔

امریکی ادارہ برائے امراض کنٹرول اینڈ پریوینشن (سی ڈی سی) نے کہا ہے کہ وہ صورتِ حال پر قریبی نظر رکھے ہوئے ہے اور اس وقت امریکی عوام کے لیے خطرہ انتہائی کم ہے۔ امریکی ریاست جارجیا میں دو ایسے افراد کی نگرانی کی جا رہی ہے جو جہاز سے اترنے کے بعد واپس گھر پہنچ چکے ہیں، تاہم ان میں کوئی علامات موجود نہیں۔

اس صورتِ حال پر بریفنگ لینے کے بعد صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ حکومت اس معاملے پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور فی الحال یہ صورتِ حال کافی حد تک قابو میں ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ماہرین اس وائرس اور اس کے پھیلاؤ کے طریقہ کار کا باریک بینی سے مطالعہ کر رہے ہیں۔ اس حوالے سے ایک مکمل اور مفصل رپورٹ کل جاری کی جائے گی جس میں مزید حقائق سامنے لائے جائیں گے۔

امریکی محکمہ صحت کے حکام ان مسافروں کی سخت نگرانی کر رہے ہیں تاکہ وائرس کے مقامی سطح پر پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ عالمی ادارہ صحت اور امریکی محکمہ خارجہ کے درمیان مسلسل رابطہ برقرار ہے تاکہ بین الاقوامی سطح پر متاثرہ افراد کا پتا لگانے اور وائرس کی روک تھام کے لیے مربوط اقدامات کیے جا سکیں۔

اس کے ساتھ ہی ایریزونا میں بھی ایک شہری کی نگرانی جاری ہے جو جہاز پر موجود تھا لیکن اس میں بھی بیماری کی علامات سامنے نہیں آئیں۔ نیویارک ٹائمز کے مطابق کیلیفورنیا میں بھی متعدد افراد کی نگرانی کی جا رہی ہے۔

فرانس میں ایک ایسے شہری پر نظر رکھی جا رہی ہے جو ایک بیمار شخص کے رابطے میں آیا تھا، اگرچہ اس میں بھی فی الحال کوئی علامات ظاہر نہیں ہوئیں۔

اوشن وائیڈ ایکسپیڈیشنز نامی کمپنی، جو اس جہاز کو چلا رہی ہے، کا کہنا ہے کہ وہ 20 مارچ کے بعد مختلف مقامات پر جہاز میں سوار ہونے اور اترنے والے تمام مسافروں اور عملے کی تفصیلات اکٹھی کر رہی ہے تاکہ رابطہ ٹریسنگ مکمل کی جا سکے۔

ہلاک ہونے والے ڈچ جوڑے کے بارے میں خیال کیا جا رہا ہے کہ وہ اس وبا کے پہلے متاثرین تھے۔ دونوں یکم اپریل کو جہاز پر سوار ہوئے تھے۔ ڈچ ایئرلائن ”کے ایل ایم“ کے مطابق خاتون کی طبیعت 25 اپریل کو جوہانسبرگ سے پرواز کے دوران بگڑ گئی تھی، جس کے بعد انہیں طیارے سے اتار لیا گیا، تاہم وہ نیدرلینڈز پہنچنے سے پہلے ہی انتقال کر گئیں۔

مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایک ’کے ایل ایم‘ فضائی میزبان، جو اس خاتون کے رابطے میں آئی تھی، ممکنہ علامات ظاہر ہونے کے بعد ایمسٹرڈیم کے اسپتال میں داخل ہے۔ ڈچ حکام کے مطابق اس خاتون کی مدد کرنے والے عملے اور مسافروں سے روزانہ صحت کے حوالے سے رابطہ کیا جا رہا ہے۔

بدھ کے روز تین مریضوں کو جہاز سے نکال کر مختلف اسپتالوں میں منتقل کیا گیا۔ دو افراد نیدرلینڈز کے اسپتالوں میں زیر علاج ہیں جبکہ ایک مریض کو جرمنی منتقل کیا گیا۔ برطانوی میڈیا کے مطابق اسپتال منتقل کیے جانے والے افراد میں ایک ایکسپیڈیشن گائیڈ مارٹن اینسٹی بھی شامل ہیں، جنہوں نے بتایا کہ ان کی حالت بہتر ہے لیکن ابھی مزید ٹیسٹ کیے جا رہے ہیں۔

جرمنی کے شہر ڈسلڈورف کی یونیورسٹی کلینک کا کہنا ہے کہ ان کے پاس موجود خاتون مریضہ میں وائرس کی تصدیق نہیں ہوئی بلکہ وہ ایک متاثرہ شخص کے رابطے میں آئی تھیں اور ان کے مختلف ٹیسٹ جاری ہیں۔

سوئٹزرلینڈ میں بھی ایک شخص اسپتال میں زیر علاج ہے جس میں ہنٹا وائرس جیسی علامات پائی گئی ہیں، تاہم اس کی حالت بہتر بتائی جا رہی ہے۔ دوسری جانب ڈنمارک کے ایک شہری، جو اس جہاز پر موجود تھے، کو احتیاطی طور پر گھر میں تنہائی اختیار کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔