پانی اور نمکیات کی کمی: گرمی میں بچوں میں اسہال اور قے کی بڑی وجہ

گرمیوں میں پسینے اور کمزوری سے ڈی ہائیڈریشن کا خطرہ بڑھ جاتا ہے، ماہرین طب
شائع 08 مئ 2026 03:12pm

گرمیوں کے آغاز اور پری مون سون سیزن کے قریب آتے ہی ماہرین صحت نے والدین کو خبردار کیا ہے کہ وہ بچوں کی خصوصی دیکھ بھال کریں، کیونکہ شدید گرمی میں پانی، نمکیات اور زنک کی کمی کے باعث بچوں میں اسہال اور قے جیسے امراض تیزی سے پھیل سکتے ہیں۔

کراچی کے ماہر امراض اطفال و معدہ پروفیسر ڈاکٹر اقبال اے میمن کے مطابق موسمی تبدیلی کے دوران بچوں کا مدافعتی نظام کمزور ہوتا ہے، جس کے باعث وہ بیماریوں کا زیادہ شکار ہوتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ گرمی، آلودہ پانی اور غیر معیاری خوراک بچوں میں معدے کے انفیکشن کا خطرہ بڑھا دیتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق بچوں کے جسم سے پسینے اور بیماری کے باعث پانی اور ضروری نمکیات تیزی سے خارج ہو جاتے ہیں، جس سے کمزوری اور ڈی ہائیڈریشن کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ اسہال بچوں میں گرمیوں کے دوران عام بیماری ہے، جو بار بار ہونے کی صورت میں سنگین صورتحال اختیار کر سکتی ہے۔

ڈاکٹرز نے ہدایت کی ہے کہ اسہال یا قے کی صورت میں بچوں کو فوری طور پر زیادہ مقدار میں پانی اور مائعات دیے جائیں۔ عالمی ادارہ صحت کی ہدایات کے مطابق او آر ایس کا استعمال فوری شروع کرنا چاہیے تاکہ جسم میں پانی اور نمکیات کی کمی پوری کی جا سکے۔

ماہرین نے کم شکر والے (لو اوسمولیرٹی) او آر ایس کے استعمال کو زیادہ مؤثر قرار دیا ہے، جو بچوں میں پانی کے بہتر جذب، قے اور اسہال میں کمی اور ڈرپ کی ضرورت کم کرنے میں مدد دیتا ہے۔

ڈاکٹر اقبال میمن کے مطابق اگر بیماری کی شدت برقرار رہے تو ڈاکٹر سے رجوع کرنا ضروری ہے، کیونکہ بعض صورتوں میں زنک بھی تجویز کیا جاتا ہے، جو نہ صرف اسہال کی شدت اور دورانیہ کم کرتا ہے بلکہ آئندہ بیماری سے بھی تحفظ دیتا ہے۔

ماہرین نے زور دیا ہے کہ اسہال کے دوران بچوں کو کھانا دینا بند نہ کیا جائے بلکہ ہلکی اور متوازن غذا دی جائے، جبکہ جوسز سے پرہیز کیا جائے۔ اس کے بجائے سادہ پانی، او آر ایس، لسی، ناریل پانی اور چاول جیسی غذائیں مفید ہیں۔

انہوں نے والدین کو مشورہ دیا کہ بچوں میں بیماری کی ابتدائی علامات پر نظر رکھیں، صاف پانی اور معیاری خوراک کا اہتمام کریں اور بروقت علاج کو یقینی بنائیں تاکہ گرمیوں میں بچوں کو سنگین طبی مسائل سے محفوظ رکھا جا سکے۔