روس کا دنیا کی طویل ترین رینج رکھنے والے میزائیل ’سرمت‘ کا کامیاب تجربہ
روس نے اپنے نئے اسٹریٹیجک، بین البراعظمی جوہری میزائیل ’سرمت‘ کے کامیاب تجربے کا اعلان کیا ہے۔ صدر پیوٹن نے کہا ہے کہ روس سال کے اختتام تک اپنے اس جدید ترین اسٹریٹجک ایٹمی میزائل ’سرمت‘ کو جنگی بیڑے میں شامل کر دے گا۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے اس نئے ہتھیار کو دنیا کا طاقتور ترین میزائیل قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ہزاروں میل دور امریکا اور یورپ میں اہداف کو نشانہ بنانے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔
صدر پیوٹن نے ٹیلی ویژن پر خطاب کرتے ہوئے نئے ایٹمی میزائیل کی خصوصیات پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ’سرمت‘ میزائیل کے وار ہیڈ لے جانے اور تباہ کاری کی صلاحیت کسی مغربی میزائیل کے مقابلے میں چار گنا زیادہ ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس کی رینج 35 ہزار کلومیٹر سے زائد ہے اور روس اس کے ذریعے زمین پر کسی بھی ہدف کو نشانہ بنا سکتا ہے۔ پیوٹن کا مزید کہنا تھا کہ یہ میزائل موجودہ اور مستقبل کے تمام اینٹی میزائیل ڈیفنس سسٹمز کو چکمہ دے کر عبور کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
یہ منصوبے گزشتہ کئی برسوں سے تاخیر اور تکنیکی مشکلات کا شکار تھا۔ اس پروگرام کو روسی صدر نے 2018 میں پہلی بار جدید دفاعی منصوبے کے طور پر پیش کیا تھا تاہم ماضی میں تجربات ناکام رہے تھے۔
روسی سرکاری ٹی وی نے منگل کو اسٹریٹیجک میزائل فورسز کے کمانڈر سرگئی کاراکایف کی ویڈیو بھی نشر کی، جس میں انہوں نے صدر پیوٹن کو ’سرمت‘ کے کامیاب تجرباتی لانچ سے متعلق بریفنگ دی۔
کاراکایف نے کہا کہ ’سرمت‘ میزائل سسٹم سے لیس لانچرز کی تعیناتی روس کی زمینی اسٹریٹیجک جوہری قوت کی جنگی صلاحیت میں نمایاں اضافہ کرے گی اور یہ اسٹریٹیجک دفاعی مقاصد کے حصول میں اہم کردار ادا کرے گی۔
رائٹرز نے ماہرین کے حوالے سے بتایا ہے کہ 2022 میں یوکرین جنگ کے آغاز کے بعد سے صدر پیوٹن کا اپنے ایٹمی ہتھیاروں کا بار بار ذکر کرنا دراصل مغرب کے لیے ایک وارننگ ہے تاکہ اسے یوکرین کی فوجی مدد سے باز رکھا جا سکے۔ دوسری جانب ’سرمت‘ میزائیل کی جنگی بیڑے میں ممکنہ تعیناتی عالمی سطح پر ایٹمی توازن اور تزویراتی استحکام کے حوالے سے بھی نئی بحث چھیڑ سکتی ہے۔














