زمین کا آخری محفوظ ترین ٹھکانہ بھی مچھروں کی زد میں آگیا

ماہرین نے اِس مقام پر مچھروں کی موجودگی کو خطرناک علامت قرار دے دیا۔
اپ ڈیٹ 13 مئ 2026 11:04am

کئی نسلوں تک شمالی قطب کے قریب واقع دور افتادہ ملک آئس لینڈ ایک ایسی منفرد پہچان رکھتا تھا جو دنیا کے کسی اور آرکٹک ملک کے پاس نہیں تھی۔ تاریخی طور پر آئس لینڈ قطبِ شمالی کا وہ واحد ملک تھا جہاں مچھر نہیں پائے جاتے تھے، جبکہ دیگر آرکٹک علاقوں میں یہی مچھر انسانوں، ہرنوں، پرندوں اور دوسرے جنگلی جانوروں کے لیے بڑی پریشانی بنتے رہے ہیں۔

ریسرچ جرنل سائنس میں شائع ہونے والی ایک نئی تحقیق میں ماہرین نے تصدیق کی ہے کہ دارالحکومت ریکیاوک کے شمال میں مچھروں کی موجودگی ریکارڈ کی گئی ہے۔ اس دریافت کے بعد آئس لینڈ اب وہ واحد آرکٹک ملک نہیں رہا جہاں مچھر موجود نہ ہوں۔

ماہرین کے مطابق یہ صرف ایک حیاتیاتی یا دلچسپ سائنسی خبر نہیں بلکہ آرکٹک خطے میں تیزی سے بدلتے ماحول کی ایک واضح وارننگ ہے۔

تحقیق کے مطابق آرکٹک دنیا کے دیگر حصوں کے مقابلے میں تقریباً چار گنا زیادہ تیزی سے گرم ہو رہا ہے۔ برف پہلے سے جلد پگھل رہی ہے، گرمیوں کا دورانیہ بڑھ رہا ہے اور انسانی سرگرمیوں میں اضافہ ہو رہا ہے، جس کے باعث ایسے جانور اور کیڑے ان علاقوں تک پہنچ رہے ہیں جہاں پہلے ان کا وجود ممکن نہیں تھا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ بحری راستوں میں اضافہ، سیاحت، فوجی سرگرمیاں اور نئے تعمیراتی منصوبے بھی مختلف اقسام کے جانداروں کو دور دراز آرکٹک علاقوں تک پہنچنے کے مواقع فراہم کر رہے ہیں۔

سائنس دانوں نے خبردار کیا ہے کہ مچھراس بڑی تبدیلی کی صرف ایک مثال ہیں۔ اصل مسئلہ آرتھروپوڈز کہلانے والے جانداروں کا ہے، جن میں کیڑے مکوڑے، مکڑیاں اور دیگر چھوٹے جاندار شامل ہیں۔ اگرچہ یہ جاندار چھوٹے ہوتے ہیں، لیکن آرکٹک کے ماحولیاتی نظام میں ان کا کردار انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔

یہ جاندار پودوں کی افزائش میں مدد دیتے ہیں، زمین میں غذائی اجزا کو دوبارہ قابل استعمال بناتے ہیں، نقصان دہ کیڑوں کو قابو میں رکھتے ہیں اور پرندوں، مچھلیوں اور جانوروں کی خوراک کا اہم ذریعہ بنتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق چونکہ یہ جاندار ماحول میں ہونے والی تبدیلیوں پر بہت تیزی سے ردعمل دیتے ہیں، اس لیے انہیں ماحولیاتی صحت کا اہم اشارہ سمجھا جاتا ہے۔ تاہم سائنس دانوں نے افسوس ظاہر کیا ہے کہ پورے آرکٹک خطے میں ان جانداروں کی نگرانی کے لیے کوئی مشترکہ نظام موجود نہیں، جس کی وجہ سے یہ سمجھنا مشکل ہو رہا ہے کہ شمالی علاقوں کے ماحولیاتی نظام میں کتنی تیزی سے تبدیلی آ رہی ہے۔

ان تبدیلیوں کے اثرات اب واضح طور پر سامنے آنے لگے ہیں۔ آرکٹک کے ساحلی پرندے مشکلات کا شکار ہیں کیونکہ کیڑوں کے پیدا ہونے کا وقت اب ان کے بچوں کی پیدائش کے موسم سے مطابقت نہیں رکھتا۔ اسی طرح ہرن اور کیریبو جیسے جانوروں پر خون چوسنے والے کیڑوں کے حملے بڑھ رہے ہیں، جس کے باعث وہ چرنے کے بجائے خود کو بچانے میں زیادہ توانائی خرچ کرتے ہیں۔

یہ تحقیق خبردار کرتی ہے کہ مچھروں کی نئی اقسام کی آمد سے خطے میں ایسی بیماریاں پھیل سکتی ہیں جو پہلے وہاں موجود نہیں تھیں۔ اس کے علاوہ انسانی سرگرمیوں جیسے جہاز رانی اور سیاحت میں اضافے کی وجہ سے یہ حشرات نئے علاقوں تک پہنچ رہے ہیں۔

تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ بعض کیڑوں کی تعداد میں اضافے سے ٹنڈرا کے پودے متاثر ہو رہے ہیں، جس سے زمین کی منجمد تہہ یعنی پرما فراسٹ کے پگھلنے کا عمل مزید تیز ہو سکتا ہے۔ اس کے نتیجے میں گرین ہاؤس گیسوں کا اخراج بڑھنے کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔

ٹنڈرا دراصل بہت سرد علاقوں کی زمین کو کہا جاتا ہے، جو زیادہ تر آرکٹک یعنی شمالی قطب کے قریب پائی جاتی ہے۔ وہاں درخت بہت کم اگتے ہیں کیونکہ زمین سال کے زیادہ تر حصے میں جمی رہتی ہے۔ اس علاقے میں چھوٹے چھوٹے پودے، گھاس، کائی، جھاڑیاں اور لائیکن جیسے پودے اگتے ہیں، انہیں ٹنڈرا کے پودے کہا جاتا ہے۔

یہ پودے ماحول کے لیے بہت اہم ہوتے ہیں کیونکہ یہ زمین کو ڈھانپ کر رکھتے ہیں، نمی برقرار رکھتے ہیں اور سرد زمین کو زیادہ گرم ہونے سے بچاتے ہیں۔ ان پودوں کے نیچے موجود زمین کی تہہ کو ”پرما فراسٹ“ کہا جاتا ہے، یعنی ایسی زمین جو سال بھر جمی رہتی ہے۔

جب موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے درجہ حرارت بڑھتا ہے یا کیڑے مکوڑوں کی تعداد زیادہ ہو جاتی ہے تو یہ ٹنڈرا پودے نقصان کا شکار ہوتے ہیں۔ اگر یہ پودے کمزور یا ختم ہونے لگیں تو زمین براہِ راست سورج کی گرمی جذب کرنے لگتی ہے، جس سے پرما فراسٹ تیزی سے پگھلنا شروع ہو جاتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ آئس لینڈ میں مچھروں کی دریافت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ آرکٹک میں حیاتیاتی تنوع کی نگرانی اور ماحولیاتی تبدیلیوں پر قابو پانے کے لیے عالمی سطح پر فوری تعاون کی ضرورت ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ مقامی اور دیسی برادریاں، جو کئی نسلوں سے ماحول میں ہونے والی تبدیلیوں کا مشاہدہ کرتی آ رہی ہیں، مستقبل کی نگرانی میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔

سائنس دانوں کے مطابق آئس لینڈ میں مچھروں کی آمد صرف ایک نئے مسئلے کا آغاز نہیں بلکہ اس حقیقت کا ثبوت ہے کہ آرکٹک اب تیزی سے بدل رہا ہے، اور ان تبدیلیوں کو مزید نظر انداز کرنا ممکن نہیں رہا۔