کیلی فورنیا مسجد پر فائرنگ کرنے والے کم عمر حملہ آور کون تھے؟

ہتھیاروں پر اسلام مخالف جملے، ہٹلر کی تنظیم کا نشان
شائع 19 مئ 2026 09:21am
سان ڈیاگو مسجد پر فائرنگ کرنے والے نوجوان کیلب وازکیز (دائیں) اور کین کلارک (بائیں)
سان ڈیاگو مسجد پر فائرنگ کرنے والے نوجوان کیلب وازکیز (دائیں) اور کین کلارک (بائیں)

امریکی ریاست کیلی فورنیا کے شہر سان ڈیاگو کی سب سے بڑی مسجد پر فائرنگ کرنے والے دونوں کم عمر حملہ آوروں کی شناخت سامنے آگئی ہے۔

پولیس نے بتایا کہ 17 سالہ کین کلارک اور 18 سالہ کیلب وازکیز نے اسلامک سینٹر آف سان ڈیاگو کے باہر فائرنگ کر کے سیکیورٹی گارڈ سمیت تین افراد کی جان لی اور بعد میں خود کو گولی مار کر خودکشی کر لی۔

اگرچہ ابتدائی اطلاعات میں کہا گیا تھا کہ ملزمان پولیس کی گولی سے مارے گئے، تاہم اب حکام نے تصدیق کی ہے کہ دونوں ملزمان کی لاشیں مسجد سے چند گلیوں کے فاصلے پر ایک سفید بی ایم ڈبلیو گاڑی سے ملیں اور انہوں نے خود کو گولی ماری تھی۔

اس حملے میں جاں بحق ہونے والوں کی شناخت بھی سامنے آ گئی ہے جن میں آٹھ بچوں کے باپ اور سیکیورٹی گارڈ امین عبداللہ، ایک کریانہ اسٹور کے مالک اور ایک اور شہری شامل ہیں۔

اس افسوسناک واقعے سے جڑا ایک انتہائی چونکا دینے والا پہلو یہ سامنے آیا ہے کہ حملے سے ٹھیک دو گھنٹے قبل کین کلارک کی والدہ نے سان ڈیاگو پولیس کو خبردار کیا تھا کہ ان کا بیٹا ذہنی طور پر شدید پریشان ہے اور خودکشی کے رجحانات رکھتا ہے۔

انہوں نے پولیس کو بتایا تھا کہ ان کا بیٹا اپنے ایک دوست کیلب وازکیز کے ساتھ ملٹری اسٹائل کے کپڑے پہن کر ان کی گاڑی اور گھر سے تین ہتھیار چوری کر کے نکل گیا ہے۔

حیرت انگیز طور پر جب مسجد پر حملے کی پہلی کال موصول ہوئی، اس وقت پولیس اہلکار تفتیش کے لیے کین کلارک کی والدہ کے گھر پر ہی موجود تھے۔

کین کلارک کے 78 سالہ دادا ڈیوڈ کلارک نے اس واقعے پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جو کچھ ہوا ہمیں اس پر بہت افسوس ہے۔ ہم بھی صرف اتنا ہی جانتے ہیں جتنا آپ لوگ جانتے ہیں، یہ ہمارے لیے ایک بہت بڑا جھٹکا ہے۔

کین کلارک میڈیسن ہائی اسکول کا طالب علم اور ایک بہترین ریسلر بھی تھا۔

 کین کلارک میڈیسن ہائی اسکول کا طالب علم اور ایک بہترین ریسلر بھی تھا۔
کین کلارک میڈیسن ہائی اسکول کا طالب علم اور ایک بہترین ریسلر بھی تھا۔

تحقیقات کے دوران پولیس کو ملزمان کی گاڑی سے اسلام مخالف تحریریں اور ایک خودکشی کا نوٹ ملا ہے جس میں نسلی برتری اور فخر کے حوالے سے باتیں لکھی گئی تھیں۔

اس کے علاوہ حملے میں استعمال ہونے والے ایک ہتھیار پر بھی نفرت انگیز الفاظ لکھے ہوئے پائے گئے۔

جہاں ملزمان کی لاشیں ملیں وہاں سے پولیس کو ایک شاٹ گن، پیٹرول کا کین اور اس پر ایک اسٹیکر چپکا ملا ہے جس پر ’ایس ایس‘ لکھا ہوا تھا۔

یہ نشان جرمنی کے ہٹلر دور کی اس بدنام زمانہ تنظیم کی نمائندگی کرتا ہے جو نسل پرستی اور ظلم کے لیے جانی جاتی تھی۔

سان ڈیاگو کے پولیس چیف اسکاٹ واہل نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ ان کے پاس پہلے سے کسی خاص خطرے کی رپورٹ نہیں تھی اور نہ ہی اسلامک سینٹر کو براہِ راست کوئی دھمکی دی گئی تھی۔

انہوں نے کہا کہ یہ ایک عمومی نوعیت کی نفرت انگیز گفتگو تھی جس کا دائرہ کافی وسیع ہے، اور ہم اب بھی اس معاملے کی سرگرمی سے تفتیش کر رہے ہیں۔

پولیس چیف اسکاٹ واہل نے جاں بحق ہونے والے سیکیورٹی گارڈ امین عبداللہ کی قربانی کو زبردست الفاظ میں خراجِ تحسین پیش کیا جنہوں نے حملہ آوروں کو مسجد کے مرکزی حصے میں داخل ہونے سے روکا۔

پولیس چیف نے کہا کہ جب تک ہم مزید حقائق نہ جان لیں میں قیاس آرائی نہیں کرنا چاہتا، لیکن اس موڑ پر یہ کہنا بالکل درست ہوگا کہ اس کے اقدامات بہادرانہ تھے۔ بلا شبہ اس نے آج کئی لوگوں کی جانیں بچائیں۔

واقعے کے فوراً بعد پولیس کی 50 سے 10 گاڑیوں نے چار منٹ کے اندر مسجد کو گھیرے میں لے لیا اور اسکول کے کلاس رومز اور نماز کے حصوں کی تلاشی لی۔

اسلامک سینٹر کے امام طحہٰ حسان نے کمیونٹی کو ویڈیو پیغام کے ذریعے تسلی دیتے ہوئے کہا کہ ہم سب محفوظ ہیں، پورا اسکول، تمام بچے، اسٹاف اور اساتذہ محفوظ ہیں اور اسلامک سینٹر سے باہر آ چکے ہیں۔

پولیس اب بھی اس واقعے کے اصل محرکات جاننے کے لیے باریک بینی سے تفتیش کر رہی ہے۔