پی ٹی آئی خیبرپختونخوا میں اختلافات کھل کر سامنے آ گئے: واٹس ایپ گروپ میں تلخ کلامی کے بعد ارکان اجلاس سے غائب
پشاور میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی خیبرپختونخوا پارلیمانی پارٹی کے اجلاس کے دوران اندرونی اختلافات اور دھڑے بندی کھل کر سامنے آ گئی ہے. وزیراعلیٰ ہاؤس میں وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی صدارت میں ہونے والے اس اہم اجلاس میں متعدد اراکین اسمبلی شریک نہیں ہوئے.
اجلاس کے شرکاء کی تعداد کے حوالے سے مختلف دعوے سامنے آ رہے ہیں۔ پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ 92 اراکین پر مشتمل پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں 30 سے زائد اراکین نے شرکت نہیں کی اور صرف 52 سے 55 اراکین موجود رہے.
دوسری جانب حکومتی ذرائع اور صوبائی وزیر اطلاعات شفیع جان نے دعویٰ کیا ہے کہ اجلاس میں 75 کے قریب اراکین نے شرکت کی جبکہ پانچ اراکین صوبے سے باہر ہونے کی وجہ سے نہ آ سکے.
ذرائع کے مطابق متعدد اراکین وزارتیں نہ ملنے پر ناراض ہیں اور اس سے قبل بھی جنوبی اضلاع کے اراکین نے وزیراعلیٰ کے سامنے اس حوالے سے اپنی مایوسی کا اظہار کیا تھا.
اس اہم اجلاس کی ایک بڑی بات سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈا پور کی عدم شرکت بھی تھی. اراکین کی ایک بڑی تعداد کے غائب ہونے پر وزیراعلیٰ سہیل آفریدی ناخوش دکھائی دیے.
اس سیاسی ہلچل کی بنیاد اجلاس سے قبل پارلیمانی پارٹی کے واٹس ایپ گروپ میں ہونے والی ایک سخت گفتگو بنی.
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے گروپ میں اراکین کو ایک انتہائی غیر معمولی اور سخت پیغام بھیجا جس نے صوبے کی سیاسی فضا کو گرما دیا.
سہیل آفریدی نے اپنے پیغام میں لکھا کہ ”پارٹی کے اندر کے جرنیل“ نے ”پارٹی کے باہر کے جرنیل“ سے وعدہ کیا ہے اور کچھ عناصر اس پارلیمانی اجلاس کو ناکام بنانا چاہتے ہیں.
انہوں نے دعویٰ کیا کہ پارٹی کے اندر ایک جرنیل نے 27 اراکین اسمبلی ساتھ ہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے عمران خان کی حکومت گرانے کا وعدہ کیا ہے.
انہوں نے اراکین کو شام سات بجے وزیراعلیٰ ہاؤس پہنچنے کی سخت تاکید کی.
انہوں نے مزید کہا کہ پارٹی کے اندر سازشوں کی اطلاعات ہیں اس لیے تمام ممبران اپنی مصروفیات چھوڑ کر متحد رہیں کیونکہ اس اجلاس کی کامیابی بعض لوگوں کو قبول نہیں.
وزیراعلیٰ کے ان سنگین الزامات پر سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور نے اسی واٹس ایپ گروپ میں سخت ردعمل دیا اور نام لیے بغیر الزامات لگانے پر شدید اعتراض کیا.
علی امین گنڈاپور نے اپنے جوابی پیغام میں لکھا کہ ”اس کا، اس کی، تم نام کیوں نہیں لیتے؟ اگر کوئی عمران خان کے خلاف سازش کر رہا ہے تو اس کا نام لیا جانا چاہیے.“
انہوں نے وزیراعلیٰ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ”صوبہ آپ سے کنٹرول نہیں ہوتا اور آپ دوسروں پر الزام لگا رہے ہیں، پارٹی رہنماؤں میں غداری کے سرٹیفکیٹ بانٹنا درست نہیں ہے.“
انہوں نے واضح کیا کہ ہم پہلے بھی عمران خان کے ساتھ تھے اور آئندہ بھی ان کے ساتھ کھڑے رہیں گے.
ان تمام اختلافات کے باوجود، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اراکین کو خوش آمدید کہا اور ان کا حوصلہ بڑھانے کی کوشش کی.
انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ پروپیگنڈے کے باوجود اراکین اسمبلی کی اتنی بڑی تعداد میں شرکت ہمارے اتحاد کا واضح ثبوت ہے.
انہوں نے مخالفین کو للکارتے ہوئے کہا کہ نہ ہمیں کوئی توڑ سکتا ہے اور نہ ہی کوئی بانی کے نظریے سے پیچھے ہٹا سکتا ہے، کثیر تعداد میں آپ کی یہاں موجودگی مخالفین کے منہ پر زوردار تھپڑ ہے.
انہوں نے اراکین کو اعتماد میں لیتے ہوئے بتایا کہ آج کے اجلاس کا اصل ایجنڈا عمران خان کی صحت اور آئندہ مالی سال کے بجٹ پر بات کرنا ہے، اور انہوں نے وعدہ کیا کہ خیبرپختونخوا کا اگلے سال کا بجٹ مکمل طور پر عوام دوست ہوگا.
دوسری طرف، صوبائی وزیر اطلاعات شفیع جان نے صورتحال کو سنبھالنے کی کوشش کرتے ہوئے میڈیا کو بتایا کہ تمام اراکین وزیراعلیٰ کی قیادت میں پوری طرح متحد ہیں.
انہوں نے واٹس ایپ پیغام کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کسی کا نام نہیں لیا بلکہ ایک عام سی بات کی تھی.
تاہم، انہوں نے پارٹی چھوڑنے یا فارورڈ بلاک بنانے والوں کو سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ اراکینِ صوبائی اسمبلی میں سے جو بھی فارورڈ بلاک میں گیا، اس پر خیبرپختونخوا کی زمین تنگ کر دی جائے گی.
دوسری جانب پی ٹی آئی خیبرپختونخوا میں اختلافات کے خاتمے کے لیے سابق اسپیکر اسد قیصر کی سربراہی میں چھ رکنی کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے۔
پی ٹی آئی کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق، کمیٹی میں اسپیکر بابرسلیم سواتی، علی اصغر خان، صوبائی وزراء مینا خان، اکبر ایوب اور پی ٹی آئی پشاور ریجن کے صدرعاطف خان شامل ہیں۔
اعلامیے کے مطابق، یہ کمیٹی پارٹی اراکین میں رابطہ کاری کا کردارادا کرے گی اور وزیراعلیٰ سہیل آفریدی، صوبائی صدر اور تحریک تحفظ آئین پاکستان کا مشاورتی فورم بھی ہوگی۔

















