پاکستان اور برطانیہ کے درمیان 'گرومنگ گینگ' کے سرغنہ کی ملک بدری پر تنازع، معاملہ کیا ہے؟
پاکستان اور برطانیہ کے درمیان ’گرومنگ گینگ‘ کے سرغنہ شبیر احمد کی ملک بدری کے معاملے پر سفارتی تنازع شدت اختیار کر گیا ہے۔ برطانوی حکومت ملزم کو پاکستان بھیجنے پر اصرار کررہی ہے تاہم پاکستان نے ملزم کو لینے سے انکار کردیا ہے۔
ملزم شبیر احمد گزشتہ چودہ برس سے برطانوی جیل میں قید ہیں جنہیں بچوں سے جنسی زیادتی کے الزام میں برطانوی عدالت نے 22 سال قید کی سزا سنائی تھی۔
شبیر احمد کو برطانیہ کے ’گرومنگ گینگ’ کا سرغنہ بھی کہا جاتا ہے۔ یہ گینگ بچوں کو کی نازیبا ویڈیو بنا کر انہیں جنسی استحصال کا نشانہ بناتا ہے۔
ملزم کی عنقریب رہائی کے بعد برطانوی حکومت انہیں پاکستان بھیجنے کی کوشش کر رہی ہے اور ملزم کو واپس نہ لینے کی صورت میں برطانوی حکومت نے پاکستان کے شہریوں پر ویزا پابندیاں عائد کرنے کی دھمکی بھی دی ہے۔
اس معاملے پر پاکستان کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی واضح طور پر کہہ چکے ہیں کہ شبیر احمد سے برطانیہ کے قوانین کے مطابق ہی نمٹا جانا چاہیے اور اس معاملے سے حکومتِ پاکستان کا سرے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
شبیر احمد سنہ 1960 کی دہائی کے اواخر میں پاکستان سے برطانیہ گئے تھے اور ان کے پاس برطانیہ اور پاکستان کی دوہری شہریت تھی۔ مگر سنہ 2012 میں انہیں کم عمر لڑکیوں کے ساتھ متعدد مرتبہ جنسی جرائم کا مجرم قرار دے کر اُن کی برطانوی شہریت ختم کر دی گئی تھی۔
شبیر احمد کو سال 2012 میں برطانیہ کی لیورپول کراؤن عدالت نے پانچ کم عمر لڑکیوں کے خلاف جرائم میں ملوث نو افراد میں شامل قرار دیتے ہوئے 22 سال قید کی سزا سنائی تھی۔
مزید کارروائی میں مانچسٹر کراؤن کورٹ نے انھیں ایک لڑکی کے ساتھ ایک دہائی سے زائد عرصے تک ریپ اور جنسی استحصال کا مجرم قرار دیا۔ استغاثہ کے مطابق شبیر احمد نے متاثرہ لڑکی کو اپنی ’ملکیت‘ کے طور پر استعمال کیا اور اسے باقاعدگی سے ریپ کا نشانہ بنایا۔
سنہ 2014 میں شبیر احمد نے اپنی سزا کے خلاف اپیل دائر کی تھی، تاہم اپیل کورٹ نے اُن کی درخواست مسترد کرتے ہوئے سزا برقرار رکھی تھی۔
73 سالہ شبیر احمد کو رواں برس جون میں جیل سے رہا کیا گیا تھا۔ رہائی کے بعد شبیر احمد کو برطانیہ سے بے دخل کرنے کے مطالبات سامنے آئے تھے۔ برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹارمر نے بھی وزیرِ داخلہ کو اس مقدمے کا جائزہ لینے کی ہدایت کی تھی۔
اُس وقت متاثرین کو بتایا گیا تھا کہ شبیر احمد کو پاکستان ڈی پورٹ نہیں کیا جا سکتا کیوں کہ 55 برس پرانے (1971 کے امیگریشن ایکٹ) کے تحت ان کی بے دخلی کا انحصار اس بات پر ہے کہ آیا پاکستان انہیں قبول کرتا ہے یا نہیں۔
اس قانون کے مطابق چوں کہ شبیر احمد سنہ 1973 سے قبل برطانیہ پہنچ چکے تھے اور بے دخلی پر غور کیے جانے سے قبل کم از کم پانچ سال برطانیہ میں رہے ہیں، اس لیے انہیں ملک بدر نہیں کیا جاسکتا۔
برطانوی اخبار ٹیلی گراف کے مطابق برطانوی وزیر خارجہ ایویٹ کوپر نے عندیہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر پاکستان روچڈیل گرومنگ گینگ کے سرغنہ شبیر احمد کو واپس لینے سے انکار کرتا ہے تو لیبر حکومت اس کے خلاف ویزا پابندیاں عائد کرنے پر غور کر سکتی ہے۔
ٹیلی گراف کی رپورٹ کے مطابق جب ان سے پوچھا گیا کہ وہ بچوں کے ساتھ زیادتی کے مجرم شبیر احمد کی ملک بدری کیسے یقینی بنائیں گی تو انہوں نے جواب دیا کہ حکومت اس مقصد کے لیے ہر ممکن کوشش کرے گی۔
برطانیہ کی ریفارم پارٹی کے نائب رہنما رچرڈ ٹائس نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر پاکستان سے مخاطب ہوکر لکھا کہ جب تک آپ شبیر احمد کو واپس نہیں بلاتے، آپ کو کوئی مالی امداد اور ویزے نہیں دیے جائیں گے۔
پارٹی کے ہوم افیئرز کے ترجمان ضیا یوسف نے کہا، “یہ حقیقت کہ لیبر حکومت پاکستان کو امداد جاری رکھنا چاہتی ہے، اس بات کا ثبوت ہے کہ سیاسی قیادت برطانوی عوام کی پرواہ نہیں کرتی۔ ریفارم حکومت میں آئی تو پاکستان کے لیے امداد اور ویزے فوری طور پر روک دے گی۔
ٹیلی گراف کی رپورٹ کے مطابق کنزرویٹو پارٹی کے شیڈو ہوم سیکریٹری کرس فلپ نے بھی حکومت سے مطالبہ کیا کہ پاکستان کو اس وقت تک امداد نہ دی جائے جب تک وہ شبیراحمد اور ایسے دیگر پاکستانی شہریوں کو واپس لینے پر رضامند نہیں ہوتا جو گرومنگ گینگ کے جرائم میں سزا یافتہ ہیں۔
اس معاملے پر برطانوی وزیرِ داخلہ شبانہ محمود نے رواں ہفتے کہا تھا کہ سنہ 1971 کا قانون برطانیہ میں طویل عرصے سے مقیم افراد کو تحفظ فراہم کرتا ہے، لیکن شبیر احمد جیسے کیسز میں اسے ملک بدری کی راہ میں رکاوٹ کے طور پر استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔
برطانوی وزارتِ داخلہ تسلیم کر چکی ہے کہ شبیر احمد کی بے دخلی کا انحصار پاکستان کے انہیں قبول کرنے پر ہے۔
تاہم پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی کا کہنا تھا کہ شبیر احمد کے گھناؤنے جرائم اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ ان کے بیرونی اسباب تلاش کرنے کے بجائے سنجیدہ نوعیت کی خود احتسابی کی جائے۔
طاہر اندرابی نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ یہ برطانیہ کا اندرونی معاملہ ہے اور اس معاملے سے حکومتِ پاکستان کا کوئی تعلق نہیں ہے۔
اسلام آباد میں بھی ایک پریس کانفرنس کے دوران شبیر احمد کی حوالگی سے متعلق سوال پر پاکستانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ متعلقہ فرد ایک برطانوی شہری ہے، جس نے اپنی پوری بالغ زندگی برطانیہ میں گزاری، جرم کا ارتکاب بھی اس نے برطانوی سر زمین پر کیا اور اسے سزا بھی ایک برطانوی عدالت نے سنائی۔
طاہر اندرابی کا کہنا تھا کہ شبیر احمد چاہے کہیں بھی پیدا ہوئے ہوں، اصل ذمہ داری اس جگہ پر عائد ہوتی ہے جہاں وہ پلے بڑھے، جہاں ان کی تربیت ہوئی، اور جہاں بد قسمتی سے وہ بگڑ گئے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ برطانیہ میں ایک فرد کی رہائی یا بعد ازاں برطانوی قانون کے تحت اس کے ساتھ کیے جانے والے سلوک سے متعلق کسی بھی فیصلے سے پاکستان کا کوئی تعلق نہیں ہو سکتا۔















