ٹرمپ کی میت کا دیوہیکل بل بورڈ تہران میں آویزاں
ایران کے دارالحکومت تہران کے مرکزی علاقے انقلاب اسکوائر میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف بڑے پیمانے پر متنازع بل بورڈ آویزاں کیا گیا ہے، جن میں انہیں کھلے تابوت میں لیٹے ہوئے دکھایا گیا ہے۔
عرب نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق یہ بل بورڈز بدھ کے روز شہر کی مختلف شاہراہوں اور عمارتوں پر لگائے گئے، جن پر انگریزی اور فارسی زبان میں نعرے درج تھے۔
بل بورڈز پر ہم ٹرمپ کو قتل کریں گے جیسے جملے تحریر تھے، جبکہ کچھ دیگر بینرز میں امریکی پرچم میں لپٹے تابوتوں کے ساتھ ٹرمپ، ان کی اہلیہ اور بچوں کی تصاویر بھی دکھائی گئیں۔ بل بورڈ کے قریب ایک مجسمہ بھی نصب ہے جس میں آیت اللہ علی خامنہ ای کی مٹھی کو علامتی طور پر دکھایا گیا ہے، جو ایران کے سخت موقف کی نمائندگی کرتا ہے۔
یہ بِل بورڈز ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی میں ایک بار پھر اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
ایران کے نئے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای نے اپنے پیش رو اور والد آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد بدلہ لینے کا عندیہ دیا ہے۔
آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کا ایک تحریری بیان ہفتہ 11 جولائی کو جاری کیا گیا تھا، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ سابق رہنما کی موت کا بدلہ لیا جائے گا، چاہے ایران کو کسی بھی صورت حال کا سامنا کیوں نہ کرنا پڑے۔
یہ بیان سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی گزشتہ ہفتے ہونے والی تدفین کی تقریبات کے موقع پر سامنے آیا تھا، تاہم نئے رہبر خود اُن تقریبات میں شریک نہیں ہوئے تھے۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 10 جولائی کو ایک بیان میں کہا تھا کہ اگر تہران نے انہیں قتل کرنے کی کوشش کی تو انہوں نے امریکی فوج کو ایران کے خلاف ہزاروں میزائل داغنے کے لیے تیار رہنے کا حکم دے دیا ہے۔
امریکی میڈیا، جن میں وال اسٹریٹ جرنل بھی شامل ہے نے رواں ہفتے رپورٹ کیا تھا کہ اسرائیل نے واشنگٹن کو خفیہ معلومات فراہم کی ہیں جن کے مطابق ایران نے مبینہ طور پر حالیہ عرصے میں ٹرمپ کو نشانہ بنانے کا منصوبہ تیار کر رکھا ہے۔
اس سے قبل جمعرات 9 جولائی کو ایران کے سابق رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات کے دوران بڑی تعداد میں لوگ جمع ہوئے تھے۔ اس موقع پر بعض افراد ایسے بینرز بھی اٹھائے ہوئے تھے جن پر ہم ’ٹرمپ کو قتل کریں گے‘ جیسے نعرے درج تھے۔
ایران کی جانب سے سامنے آنے والے بیانات اور امریکا کی طرف سے دی جانے والی دھمکیوں کے بعد دونوں ممالک کے درمیان پہلے سے موجود کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے، جبکہ عالمی سطح پر مبصرین صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔












