کراچی: 30 کروڑ کی کیش وین ڈکیتی کا معمہ حل، سرغنہ گرفتار
کراچی کے علاقے جوہر آباد میں سیکیورٹی کمپنی کی کیش وین سے 30 کروڑ روپے لوٹنے کے کیس میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ پولیس نے بین الصوبائی ڈکیت گروہ کے سرغنہ کو گرفتار کر کے لوٹی گئی رقم میں سے 20 کروڑ روپے برآمد کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
کراچی پولیس نے جوہر آباد میں کیش وین سے 30 کروڑ روپے کی ڈکیتی کے ہائی پروفائل کیس کو حل کرنے کا دعویٰ کرتے ہوئے بین الصوبائی ڈکیت گروہ کے مبینہ سرغنہ محمد علی عرف علی لنگڑا کو گرفتار کر لیا ہے۔
پولیس کے مطابق ملزم کے قبضے سے لوٹی گئی رقم میں سے 20 کروڑ روپے برآمد کر لیے گئے ہیں، جبکہ واردات میں استعمال ہونے والی گاڑیاں بھی تحویل میں لے لی گئی ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ 12 جون کو جوہر آباد کے علاقے میں ایک سیکیورٹی کمپنی کی کیش وین کو لوٹا گیا تھا، جس میں تقریباً 30 کروڑ روپے کی رقم چھین لی گئی تھی۔ واقعے کے بعد پولیس نے مختلف زاویوں سے تحقیقات کا آغاز کیا اور متعدد شواہد اکٹھے کیے۔
پولیس تحقیقات کے دوران یہ بھی انکشاف ہوا کہ کیش وین کا چیف کریو واجد مبینہ طور پر واردات میں ملوث تھا۔ حکام کے مطابق اندرونی معاونت کے شواہد سامنے آنے کے بعد تفتیش کا دائرہ مزید وسیع کیا گیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ڈکیتی میں ملوث گروہ درجن سے زائد افراد پر مشتمل ہے، جبکہ دیگر ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ تفتیشی حکام کے مطابق گروہ کے نیٹ ورک اور واردات کی منصوبہ بندی سے متعلق مزید معلومات حاصل کی جا رہی ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ برآمد ہونے والی رقم اور دیگر شواہد کی بنیاد پر کیس کی مزید تحقیقات جاری ہیں اور باقی ملزمان کو جلد گرفتار کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔














