پی ٹی آئی رہنما ماجد ستی کا قتل: جے یو آئی رہنما فرخ کھوکھر کو عمر قید کی سزا

مقدمے میں نامزد ایک اور ملزم وسیم کو شک کا فائدہ دیتے ہوئے بری کرنے کا حکم جاری کردیا گیا۔
شائع 14 جولائ 2026 11:28am
مجرم فرخ کھوکھر (فائل فوٹو)
مجرم فرخ کھوکھر (فائل فوٹو)

راولپنڈی کی مقامی سیشن عدالت نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سرگرم کارکن ماجد ستی کے قتل کیس کا حتمی فیصلہ سناتے ہوئے مرکزی مجرم فرخ کھوکھر سمیت تین مجرموں کو عمر قید کی سزا سنا دی ہے۔

ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج افشاں اعجاز صافی نے راولپنڈی کے جوڈیشل کمپلیکس میں مقدمے کا فیصلہ سنایا۔

عدالت نے جرم ثابت ہونے پر جے یو آئی کے مقامی رہنما فرخ کھوکھر کو عمر قید اور دس لاکھ روپے جرمانے کی سزا کا حکم دیا، جبکہ مقدمے میں نامزد ایک اور ملزم وسیم کو شک کا فائدہ دیتے ہوئے بری کرنے کا حکم جاری کیا۔

فیصلہ سنائے جانے کے وقت جوڈیشل کمپلیکس اور عدالت کے باہر سیکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے تھے اور پولیس کی بھاری نفری تعینات تھی۔

عدالت میں دونوں فریقین کے خاندان کے افراد، وکلاء اور حامیوں کی ایک بہت بڑی تعداد موجود تھی۔

جج صاحبہ کی جانب سے فیصلہ سنائے جانے کے بعد عدالت نے ضمانت پر موجود ملزم فرخ کھوکھر کو حراست میں لینے کا حکم دے دیا تھا، جس کے بعد پولیس نے انہیں کمرہ عدالت سے ہی ہتھکڑیاں لگا کر گرفتار کیا اور بخشی خانے منتقل کر دیا۔

بعد ازاں، مجرموں کو سخت ترین سیکیورٹی کے پہرے میں اڈیالہ جیل بھیج دیا گیا۔

یہ معاملہ 22 اگست 2022 کا ہے جب راولپنڈی کے علاقے سکستھ روڈ پر موٹر سائیکل سواروں نے فائرنگ کر کے پی ٹی آئی کے رہنما اور سماجی کارکن ماجد ستی کو بے دردی سے قتل کر دیا تھا۔

اس قتل کا مقدمہ راولپنڈی کے تھانہ صادق آباد میں درج کیا گیا تھا۔

پولیس کی تفتیش اور عدالتی کارروائی کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ مقتول ماجد ستی ایک پلاٹ پر ناجائز قبضے کی کوشش کو روک رہے تھے، اور اسی دشمنی اور قبضے کی راہ میں رکاوٹ بننے پر انہیں راستے سے ہٹا دیا گیا۔

مجرم فرخ کھوکھر کے خاندانی اور سیاسی پس منظر پر نظر ڈالی جائے تو وہ ماضی میں پیپلز پارٹی کا حصہ رہنے کے بعد جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) میں شامل ہوئے تھے۔

وہ راولپنڈی کی مشہور شخصت تاجی کھوکھر کے بیٹے ہیں، جنہیں ماضی میں زمینوں پر مبینہ قبضوں کے حوالے سے جانا جاتا تھا۔

اس فیصلے پر مقتول ماجد ستی کے لواحقین اور وکلاء نے اطمینان کا اظہار کیا ہے۔

عدالت نے اپنے تفصیلی فیصلے میں واضح کیا کہ انصاف کی فراہمی کے لیے تمام شواہد اور گواہوں کے بیانات کو قانون کے مطابق پرکھا گیا ہے، جس سے یہ ثابت ہوا کہ قتل کی اس سازش کے پیچھے فرخ کھوکھر اور ان کے ساتھیوں کا ہاتھ تھا۔