اسرائیلی انٹیلی جینس سے رابطے کا الزام، احمدی نژاد نے نیویارک ٹائمز کا دعویٰ مسترد کردیا
ایران کے سابق صدر محمود احمدی نژاد نے امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کی اس رپورٹ کو سختی سے مسترد کر دیا ہے جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد نے انہیں اپنے ساتھ ملانے کی کوشش کی اور وہ اس وقت نظر بند ہیں۔ احمدی نژاد کے دفتر نے ان تمام دعوؤں کو مکمل طور پر جھوٹا قرار دیا ہے۔
ترک خبر رساں ادارے انادولو کے مطابق منگل کو جاری ہونے والے بیان میں احمدی نژاد کے دفتر نے کہا کہ نیویارک ٹائمز نے من گھڑت خبریں شائع کی ہیں جن کا مقصد عوام کو گمراہ کرنا اور ایران کے اندر اختلافات کو ہوا دینا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ ہم نیویارک ٹائمز کی جانب سے پھیلائے گئے تمام مکمل طور پر جھوٹے الزامات کو دو ٹوک انداز میں مسترد کرتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق دفتر نے اس بات کی بھی تردید کی کہ محمود احمدی نژاد گھر میں نظر بند ہیں۔ بیان کے مطابق یہ دعویٰ بھی بے بنیاد ہے اور اخبار کی دیگر غیر منطقی باتوں کو تقویت دینے کے لیے گھڑا گیا ہے۔
اس سے ایک روز قبل نیویارک ٹائمز نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ گزشتہ چند برسوں کے دوران موساد نے خفیہ طور پر محمود احمدی نژاد سے رابطہ کیا اور انہیں اسرائیل کے ساتھ تعاون پر آمادہ کرنے کی کوشش کی۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ اسرائیل انہیں مستقبل میں ایران کی قیادت کے لیے ایک ممکنہ امیدوار کے طور پر دیکھ رہا تھا۔
اخبار کے مطابق یہ مبینہ منصوبہ ایران میں حکومت کی تبدیلی کی وسیع اسرائیلی حکمت عملی کا حصہ تھا، جس کا آغاز ایران کی اعلیٰ قیادت پر حملوں کے بعد کیا گیا۔
رپورٹ میں امریکی حکام کے حوالے سے یہ بھی دعویٰ کیا گیا کہ اسرائیل نے احمدی نژاد کے رہائش اور سفری اخراجات خفیہ طور پر ادا کیے، جبکہ اسرائیلی اہلکار بیرون ملک، خاص طور پر بوڈاپیسٹ کے دوروں کے دوران، کئی مرتبہ ان سے ملے۔
نیویارک ٹائمز نے مزید دعویٰ کیا کہ فروری کے آخر میں امریکا اور اسرائیل کی ایران کے ساتھ کشیدگی کے ابتدائی دنوں میں اسرائیلی انٹیلی جنس نے احمدی نژاد کو تہران سے نکالنے کی کوشش کی تاکہ ایرانی حکومت کا تختہ الٹ کر انہیں اقتدار میں لایا جا سکے۔
رپورٹ کے مطابق 28 فروری کو ایک اسرائیلی فضائی حملے میں احمدی نژاد کے کمپاؤنڈ کو نشانہ بنایا گیا، جس میں ان کے محافظوں کے زیر استعمال ایک عمارت اور ان کی بکتر بند گاڑی متاثر ہوئی۔
اخبار نے چار سینئر ایرانی حکام کے حوالے سے دعویٰ کیا کہ حملے کے بعد ایک سیاہ رنگ کی پیجو گاڑی وہاں پہنچی، احمدی نژاد کو اپنے ساتھ لے گئی اور انہیں ایران کے اندر ایک خفیہ محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا۔ رپورٹ میں امریکی اور ایرانی حکام کے حوالے سے یہ الزام بھی لگایا گیا کہ گاڑی چلانے والے افراد موساد کے اہلکار تھے۔
دوسری جانب ان دعوؤں پر ایرانی حکومت یا اسرائیل کی جانب سے کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ محمود احمدی نژاد کے دفتر نے تمام الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔
واضح رہے کہ محمود احمدی نژاد 2005 سے 2013 تک ایران کے صدر رہے۔ گزشتہ ہفتے وہ امریکا اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کے بعد پہلی مرتبہ عوامی سطح پر اس وقت نظر آئے جب انہوں نے ایران کے مرحوم سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی آخری رسومات میں شرکت کی۔
















