صدر ٹرمپ کا آبنائے ہرمز کا کنٹرول سنبھالنے اور ایران کا دوبارہ محاصرے کا اعلان
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے دوبارہ محاصرے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کھلی رہے گی، تاہم ایران اور اس کے ساتھ تجارتی تعلق رکھنے والے جہازوں کی آمدورفت پر پابندیاں عائد کی جائیں گی۔ انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ امریکا آبنائے ہرمز کی نگرانی سنبھال سکتا ہے اور اس اہم بحری گزرگاہ کی حفاظت کے بدلے اسے مالی معاوضہ ملنا چاہیے۔
قطری نشریاتی ادارے ’الجزیرہ‘ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ’فاکس نیوز‘ کو ٹیلی فونک انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ہم آبنائے ہرمز کو محفوظ رکھیں گے اور ممکن ہے اسے ہم ہی چلائیں۔ ہم اس آبنائے کے نگہبان بن جائیں گے، شاید اسے گارڈین اینجل آف دی اسٹریٹ کہیں، اور اس کے لیے ہمیں معاوضہ ملنا چاہیے۔
صدر ٹرمپ نے انٹرویو میں کہا کہ امریکا آبنائے ہرمز کی حفاظت کے بدلے میں بہت زیادہ رقم حاصل کرے گا۔ ان کے بقول دیگر ممالک بہت خوش حال ہیں، وہ امریکا کے ساتھ ہیں اور امریکا سے یہ توقع نہیں کی جا سکتی کہ وہ یہ ذمہ داری بلا معاوضہ انجام دے۔
اسی گفتگو میں ٹرمپ نے ایران کو سخت انتباہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ امریکا نے گزشتہ رات ایرانی فوجی سازوسامان کو شدید نقصان پہنچایا۔ انہوں نے کہا کہ ایران کے بیشتر عسکری آلات تباہ ہو چکے ہیں اور امریکی کارروائیوں میں فضائی دفاعی نظام کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
امریکی صدر کے بقول، ’جب بھی وہ ڈرون بھیجتے ہیں، ہم انہیں بہت سخت جواب دیتے ہیں۔‘ انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ امریکا اور ایران کے درمیان ایک معاہدہ موجود تھا، لیکن ایران نے اسے توڑ دیا۔ ان کے بقول، ’وہ ہمیشہ معاہدے توڑتے ہیں، اس لیے ہم انہیں بہت سخت نشانہ بنائیں گے اور ہم آبنائے کو اپنے پاس رکھیں گے اور ممکن ہے اسے ہم ہی چلائیں۔‘
بعد ازاں صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر ایک بیان میں کہا کہ آبنائے ہرمز کھلی ہے اور ایران کے ساتھ یا اس کے بغیر بھی کھلی رہے گی۔
انہوں نے اعلان کیا کہ امریکا ایران کی ناکا بندی کو دوبارہ نافذ کر رہا ہے، جس کے تحت ان کے بقول صرف ایرانی جہازوں یا ایران کے گاہکوں کے جہازوں کی آمدورفت کو روکا جائے گا، جب کہ دیگر تمام ممالک کو آبنائے ہرمز کے منصفانہ اور آزادانہ استعمال کی اجازت ہوگی۔

صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ امریکا آئندہ ’گارڈین آف دی ہرمز اسٹریٹ‘ کے نام سے جانا جائے گا اور اس ذمہ داری کے تحت آبنائے ہرمز میں سلامتی اور تحفظ کی فراہمی پر آنے والے اخراجات کے بدلے تمام بحری مال برداری پر 20 فی صد معاوضہ وصول کیا جائے گا۔ ان کے مطابق اس نظام کے قیام اور نفاذ کا عمل فوری طور پر شروع کیا جائے گا۔
واضح رہے کہ حالیہ دنوں میں امریکی فوج اور ایران کی پاسدارانِ انقلاب کے درمیان جھڑپوں میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے اور جنگ شروع ہونے سے قبل عالمی سطح پر تیل اور گیس کی تقریباً 20 فی صد ترسیل اسی راستے سے ہوتی تھی۔ اسی وجہ سے اس علاقے میں پیدا ہونے والی کشیدگی کو عالمی توانائی منڈیوں اور بین الاقوامی تجارت کے لیے غیر معمولی اہمیت حاصل ہے۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آبنائے ہرمز کا کنٹرول سنبھالنے سے متعلق بیان پر ایرانی عسکری ہیڈکوارٹر ’خاتم الانبیا‘ نے سخت ردِ عمل کا اظہار کیا ہے۔















اس کہانی پر تبصرے بند ہیں۔