لبنان کی اسرائیل کے ساتھ مذاکرات کی بحالی کے لیے 3 شرائط

رپورٹ کے مطابق لبنان اس وقت تک مذاکرات کی میز پر واپس نہیں آئے گا جب تک ان تینوں معاملات میں واضح پیش رفت نہیں ہوتی
شائع 09 اگست 2026 02:52pm

اٹلی کے دارالحکومت روم میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان براہ راست مذاکرات کے ساتویں دور کے اختتام کے بعد لبنان نے مذاکرات کے حوالے سے سخت مؤقف اختیار کرلیا ہے۔ لبنانی وفد کی قیادت سے وابستہ ذرائع کے مطابق بیروت نے فیصلہ کیا ہے کہ تین اہم معاملات پر واضح پیش رفت ہونے تک وہ مذاکراتی میز پر واپس نہیں آئے گا۔

العربیہ اور الحدث سے گفتگو کرتے ہوئے لبنانی وفد کی قیادت کے قریب ذرائع نے بتایا کہ لبنان نے مذاکرات میں تین اہم مطالبات پر زور دیا ہے۔ ان میں پورے لبنانی علاقے میں مکمل فائر بندی، بنت جبیل اور خیام پر مشتمل ایک نیا آزمائشی زون قائم کرنا اور جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوج کی جانب سے گھروں، رہائشی علاقوں، باغات اور زرعی زمینوں کی مسماری کا سلسلہ روکنا شامل ہے۔

رپورٹ کے مطابق لبنان اس وقت تک مذاکرات کی میز پر واپس نہیں آئے گا جب تک ان تینوں معاملات میں واضح پیش رفت نہیں ہوتی۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ہفتے کے روز اسرائیلی فوج نے مغربی زوطر قصبے میں داخل ہو کر مٹی کا ایک بلند حصار قائم کیا۔ یہ علاقہ گزشتہ جون میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان طے پانے والے فریم ورک معاہدے کے تحت لبنانی فوج کے حوالے کیا گیا تھا۔

لبنان اور اسرائیل کے درمیان امریکی سرپرستی میں مذاکرات کے پانچ دور مکمل ہونے کے بعد 26 جون کو ایک فریم ورک معاہدے پر دستخط کیے گئے تھے۔

معاہدے میں حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے، جنوبی لبنان کے مقبوضہ علاقوں سے اسرائیلی فوج کے مرحلہ وار انخلا اور آزمائشی زونز میں لبنانی فوج کی تعیناتی شروع کرنے سمیت مختلف نکات شامل تھے۔

زوطر بھی ان آزمائشی زونز میں شامل ہے جن کا ذکر فریم ورک معاہدے میں کیا گیا تھا۔ لبنانی فوج نے 21 جولائی کو اس علاقے میں اپنی پوزیشن سنبھالی تھی۔

معاہدے کے تحت لبنانی فوج کو ان علاقوں میں تعیناتی کے بعد حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے اور سرکاری فورسز کے علاوہ کسی بھی دوسرے مسلح گروپ کی فوجی موجودگی روکنے کی ذمہ داری ادا کرنا ہے۔ اس عمل کو جنوبی لبنان کے دیگر علاقوں سے اسرائیلی فوج کے مرحلہ وار انخلا کے لیے ایک آزمائشی قدم قرار دیا گیا تھا۔

لبنان اور اسرائیل کے درمیان رواں ماہ 6 اگست کو روم میں براہ راست مذاکرات کا ساتواں دور مکمل ہوا تھا۔ تاہم لبنانی صدارتی محل کے ایک ذرائع نے بتایا کہ اسرائیل نے جنوبی لبنان سے اپنی فوج کے انخلا کے لیے ایک نئے علاقے کے تعین سے متعلق لبنانی مطالبہ مسترد کر دیا۔

اسرائیل کا مؤقف ہے کہ پہلے ان دو علاقوں میں لبنانی فوج کے مکمل کنٹرول کی تصدیق کی جائے جہاں وہ پہلے ہی تعینات ہو چکی ہے۔

دوسری جانب حزب اللہ نے اسرائیل کے ساتھ براہ راست مذاکرات کرنے اور اپنے ہتھیار چھوڑنے کے مطالبے کو بھی واضح طور پر مسترد کیا ہے۔

لبنان یکم مارچ کو اس وقت جنگ میں شامل ہوا تھا جب حزب اللہ نے ایران کے خلاف امریکی اور اسرائیلی حملے کے آغاز کے دوران ایرانی سپریم لیڈر علی خامنئی کی ہلاکت کے جواب میں اسرائیل کی جانب راکٹ فائر کیے تھے۔

اس کے بعد اسرائیل نے لبنان میں بڑے پیمانے پر فضائی حملے کیے اور جنوبی لبنان میں زمینی کارروائیاں شروع کر دیں۔ لبنانی حکام کے مطابق ان کارروائیوں میں اب تک 4 ہزار 300 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

تاہم جون میں واشنگٹن اور تہران کے درمیان مفاہمت کی یادداشت پر دستخط اور لبنان و اسرائیل کے درمیان مذاکرات کے آغاز کے بعد جنوبی لبنان میں تشدد میں نمایاں کمی آئی ہے۔

اس کے باوجود اسرائیل نے اپنی سرحد کے ساتھ جنوبی لبنان میں تقریباً 10 کلومیٹر گہرائی تک سکیورٹی زون برقرار رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ اسرائیلی فوج جنوبی لبنان کے مختلف علاقوں میں فضائی حملوں کے ساتھ ساتھ بڑے پیمانے پر مسماری اور تباہی کی کارروائیاں بھی جاری رکھے ہوئے ہے۔