خواجہ آ صف کا فو ج اور حکومت میں تناو مسترد

اپ ڈیٹ 18 دسمبر 2015 06:32am

Pakistan-Khawaja-Asif

وزیردفاع خواجہ آصف نے فوج اور حکومت میں تناو کا تاثر مسترد کردیا اور کہا حکومت کے معاملات میں فوج مداخلت نہیں کررہی، گورننس پرعدلیہ اور میڈیا بات کرسکتے ہیں تو فوج کیوں نہیں کرسکتی۔
آج نیوز پر چلنے والے بی بی سی کے پروگرام سیربین میں وزیردفاع خواجہ آصف کا اہم انٹرویوکیا گیا ،جس میں انہوں نے حکومت اور فوج کے تعلقات کا دفاع کیاانہوں نے کہا کہ پاکستان میں فوج نے چالیس برس تک براہ راست حکومت کی یہ بات سمجھنی چاہیے کہ پاکستان ایک عبوری دور سے گزر رہا ہے۔وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ سارے ادارے مل کر کام کر رہے ہیںاور ہم تین سے چار سال میں اپنی منزل پر پہنچ جائیں گے۔
خواجہ آصف نے کہا کہ درپیش چیلنجوں سے ہمیں ایک قوم کی حیثیت سے نمٹنا ہے یہ بحث اہم نہیں کہ کون زیادہ حصہ ڈال رہا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ کابینہ کی دفاعی کمیٹی اور اپیکس کمیٹی ایک جیسے ادارے ہیں۔وزیردفاع کا کہنا تھا کہ وہ فوجی حکمرانی کے ناقد پہلے بھی تھے اور اب بھی ہیں لیکن موجودہ دور میں وہ مطمئن ہیں۔ فوج قومی اہداف کے حصول کیلئے قیادت کرتے ہوئے اپنا فرض ادا کررہی ہے ارتقائی مرحلے میں تمام اختیارات حاصل کرنے کی کسی کو جلدی نہیں ہونی چاہیے۔