خراٹے لینے کی عادت بچوں کے لئے خطرناک ثابت ہوسکتی ہے

اپ ڈیٹ 17 مئ 2016 04:27pm

_935335da-1c0f-11e6-878c-ac18b651cb15

کیا آپ کے بچے کی اسکول میں پرفارمنس دن بہ دن کم ہوتی جا رہی ہے؟

جب آپ کا بچہ یا بچی سو رہے ہوں معلوم کر لیں کہ ہیں وہ سوتے ہوئے خراٹے تو نہیں لے رہے۔ کیونکہ تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ بچوں کا خراٹے لینا ان کے سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیت کو کم کرتا ہے۔

بچوں کا اکثر خراٹے لینا اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ایسا کرنا ان کو ایک قسم کے سلیپنگ ڈس آرڈر کی طرف لے جا رہا ہے جو کہ سلیپنگ ایپنیا کہلاتا ہے۔

اس کی وجہ سے بچے کی پڑھائی پر سے توجہ کم ہوتی ہے اور اس کو پڑھنے میں مشکلات پیش آتی ہیں اور نہ ہی وہ کوئی تخلیقی کام کر پاتا ہے۔

طبی ماہرین کے مطابق سلیپنگ ایپنیا میں سانس کا رک رک کر آنا واضح علامت ہے۔ جب کہ خراٹے آنے کی عام طور پر وجہ حلق کے غدود کا بڑھنا بھی ہوتا ہے جس کی وجہ سے سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے۔

یہ تحقیق سین فرانسسکو کے عالمی ادارہ برائے تھوریسک سوسائٹی میں پیش کی گئی۔

ماہرین نے ایک اسکول کے ایک ہزار تین سو انسٹھ بچوں کا معائنہ کیا جس میں پانچ سے سات سال کے بچوں کے چار گروپس بنائے گئے اور ان کو مختلف سوالات پر مبنی امتحان سے گزارہ گیا جس کے نتیجے میں یہ بات سامنے آئی کہ سوتے میں خراٹے لینا بچوں کی سوچنے کی صلاحیت پر منفی اثر ڈالتا ہے۔