بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کی 68ویں برسی آج منائی جارہی ہے
قائداعظم پاکستان بننے کے ایک سال بعد ہی بیماری کے باعث انتقال کرگئے تھے - فائل فوٹوکراچی: بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کی68ویں برسی آج منائی جارہی ہے۔ اس حوالے سے مختلف جگہوں پر تقاریب منعقد کی جارہی ہیں۔
برصغیر کے مسلمانوں کو ان کی منزل تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کرنے والے محمد علی جناح کو بچھڑے آج 68 برس بیت گئے۔ قائداعظم محمد علی جناح پاکستان بننے کے ایک سال بعد ہی بیماری کے باعث انتقال کرگئے تھے ۔
آج میں بابائے قوم کی 68ویں برسی منائی جارہی ہے۔ یہ دن ایک ایسے عظیم قائد کی یاد دلاتا ہے جن کی محنت اورلگن نے پاکستان کو دنیا کے نقشے پر ابھارا۔
قائداعظم محمد علی جناح 1930 میں تپ دق کی مہلک بیماری میں مبتلا ہوئے جو ان کے انتقال کا سبب بنی۔قائداعظم نے جان لیوا بیماری کو اپنی بہن محترمہ فاطمہ جناح اور قریبی رفقا کے علاوہ سب سے چھپاکر رکھا۔ مرض کے چھپانے کی بڑی وجہ پاکستان کو وجود میں لانا تھا۔
قائداعظم کے انتقال کے بعد بھارت کے آخری وائسرائے لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے کہا کہ اگر مجھے یہ معلوم ہوتا کہ جناح اتنی جلدی اس دنیا سے کوچ کرجائیں گے تو میں برصغیر کی تقسیم کا معاملہ کچھ عرصےکیلئے ملتوی کردیتا۔ جناح نہیں ہوتے تو پاکستان وجود میں نہ آتا۔
انتقال سے قبل قائداعظم بلند مقام زیارت میں ایک مکان میں رہائش پذیر تھے جو آج کل قائداعظم ریزیڈنسی کے نام سے مشہور ہے ۔
قائداعظم محمد علی کی وفات کراچی میں ہوئی جس میں ہزاروں افراد نے شرکت کی۔ ہر آنکھ اپنے قائد کیلئے اشکبار تھی۔ انگریزوں کی غلامی سے نجات دلانے والے قائد کو پوری قوم سلام پیش کرتی ہے۔















اس کہانی پر تبصرے بند ہیں۔