قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی نے انکم ٹیکس ترمیمی بل کی منظوری دیدی

شائع 14 جنوری 2016 04:27pm

na

اسلام آباد:ایم کیو ایم ، پی ٹی آئی اور پیپلز پارٹی کی مخالفت کے باوجود قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی خزانہ نے انکم ٹیکس ترمیمی بل دو ہزار سولہ کی منطوری دے دی۔

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا اجلاس چیئرمین قیصر شیخ کی زیرصدارت پارلیمنٹ ہاوٴس میں ہوا۔ اجلاس میں انکم ٹیکس ترمیمی بل دو ہزار سولہ پر بحث کی گئی۔ رکن کمیٹی رشید گوڈیل کا کہنا تھا کہ یہ بل جلد بازی میں پاس کرنے کی بجائے خزانہ کمیٹی کو بھی تاجروں کے ساتھ مذاکرات میں شامل کیا جانا چاہیے۔ صرف تاجروں کے ساتھ ہی مذاکرات کیوں۔ جو جو اس سے متاثرہ فریق ہیں انہیں مذاکرات میں شامل کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اس بل میں بہت ساری خامیاں ہیں جنہیں دور ہونا چاہیے۔

کمیٹی رکن نفیسہ شاہ نے بھی بل کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ قانون ایک شخص یا طبقے کے لیے نہیں بنتا۔ یہ حکومت کیوں پارلیمنٹ کو کمزور بنا رہی ہے۔ بند کمروں میں بیٹھ کر فیصلے کرنے کی طرز ختم ہونی چاہیے۔ کمیٹی کو اس بل پر بات نہیں کرنے دی جا رہی۔ حکومتی رکن میاں عبدالمنان نے کہا کہ ٹیکس ریفارمز کمیشن کی مدت میں چھ مرتبہ توسیع ہو چکی ہے۔ ٹیکس ریٹرن جمع کروانے کی تاریخ میں بھی تین بار توسیع ہو چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب ٹٰیکس جمع نہیں ہو گا تو معیشت کیسے چلے گی۔ بعدازاں کمیٹی نے سیاسی جماعتوں کی مخالفت کے باوجود انکم ٹیکس ترمیمی بل دو ہزار سولہ کی منظوری دے دی۔