یہ پڑھ کر شاید آپ سالگرہ کا کیک کھانا چھوڑ دیں

شائع 02 اگست 2017 06:35am

جب آپ سالگرہ میں شرکت کرتے ہیں تو دیکھتے ہیں کہ برتھ ڈے بوائے یا گرل کیک پر لگی موم بتی کو پھونک مار کر بجھاتے ہیں۔ ظاہر ہے آپ کا دل بھی کرتا ہے آپ کو اس لذیذ کیک کا ایک ٹکڑا ضرور ملے۔

لیکن کیا آپ جانتے ہیں موم بتی پر ماری گئی اس پھونک نے کتنے جراثیم اس کیک پر منتقل کئے؟

محقیقین نے ٹیسٹ کیلئے اسٹائروفوم سے ایک جعلی کیک تیار کیا جس پر کیک فروسٹنگ سے مزین ایک فوئل لگا تھا۔ اس فوئل پر موم بتیاں لگائی گئیں جس طرح اصلی سالگرہ کے کیک پر لگائی جاتی ہیں۔

اس کے بعد موم بتیوں کو پھونک مار کر بجھایا گیا اور پھونک مارے گئے کیک کا موازنہ بِنا پھونک مارے گئے کیک سے کیا گیا۔

ٹیسٹ میں پایا گیا کہ جس کیک پر پھونک ماری گئی تھی اس پر دوسرے کیک کی نسبت 15 گنا زیادہ جراثیم پائے گئے ہیں۔

لیکن گھبرانے کی ضرورت نہیں، عام طور پر یہ جراثیم نقصاندہ نہیں ہوتے۔

تحقیق کے شریک مصنف اور کلیمسن یونیورسٹی ساوتھ کیلیفورنیا کے فوڈ سیفٹی پروفیسر پال ڈاسن کا کہنا ہے کہ یہ کوئی بڑا خطرہ نہیں، حقیقت میں اگر ایک لاکھ بار ایسا کیا جائے تب بھی آپ کے بیمار ہونے کا چانس بہت کم ہے۔

لیکن اگر برتھ ڈے بوائے یا گرل واضح طور پر بیمار ہے یا اسے فلو، نزلہ جیسی کوئی بیماری ہے تو کیک سے دور رہنا ہی بہتر ہے۔

بشکریہ Livescience.com

Read Comments