فٹنس سے متعلق 10 مفروضے، جن میں کوئی صداقت نہیں
موجودہ دور میں بھی کھیل اتنی ہی اہمیت رکھتا ہے جتنی اہمیت اسے پرانے دور میں حاصل تھی۔ ہر دوسرا یا تیسرا شخص جم جاتا ہے، یوگا رتا ہے یا کم سے کم دوڑتا ضرور ہے۔ جیسے جیسے لوگ فٹنس کی طرف مائل ہو رہے ہیں، اس سے متعلق غلط مفروضوں کی تعداد بڑھتی جارہی ہے۔
یہاں دس ایسے ہی مفروضے آپ کو بتائے جا رہے جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔
٭ کہتے ہیں کہ پٹھوں میں درد محسوس ہورہا ہے تو ورزش اثر کررہی ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ پٹھوں میں مائیکرو ٹراما کی وجہ سے ہوتا ہے۔
٭ اسٹریچنگ سے مسلز کے درد کو آرام پہنچتا ہے، جبکہ اسٹریچنگ صرف مسلز کو ریلیکس کرتی ہے۔
٭ کہتے ہیں جتنی زیادی ورزش اتنا اچھا اثر، جبکہ ایسا نہیں ہے۔ بہترین نتیجے کا انحصار ورزش کی کوالٹی پر پوتا ہے اس کے دورانئے پر نہیں۔
٭ روزانہ ورزش کرنا صحیح نہیں ، بلکہ آپ کو ورزش کے درمیان دو سے تین دن کا وقفہ لینا ضروری ہے۔
٭ کہا جاتا ہے کہ پاور ایکسرسائز خواتین کو موٹا اور بھاری بناتی ہیں، لیکن حقیقت میں یہ ایکسرسائز انہیں مزید فٹ اور خوبصورت بناتی ہیں۔
٭ ورزش کرنے والے کیلئے ڈائیٹ معنی نہیں رکھتی، لیکن سچ تو یہ ہے کہ اگر آپ کو ورزش کے بہترین نتائج دیکھنے ہیں تو ڈائیٹ پر خاص دھیان دینا ہوگا۔
٭ نیوپرین پہن کر ورزش کرنے سے چربی گھلتی ہے، یہ غلط ہے۔ کیونکہ اس طرح گرین ہاؤس ایفیکٹ آپ کے جسم کو نقصان پہنچاتا ہے۔
٭ دوست کی ورک آؤٹ روٹین آپ کیلئے فائدہ مند نہیںکیونکہ سب کو الگ الگ روٹین اثر کرتی ہے۔
٭ ایکسرسائز کا نتیجہ وزن سے نہیں بلکہ سائز سے ناپنا چاہئے، یعنی آپ ترازو کے بجائے انچ ٹیپ کا استعمال کریں۔
٭ کہتے ہیں کہ ایکسرسائز سب سے پہلے ان جگہوں سے چربی ختم کرتی ہیں جہانں سے آپ کم کرنا چاہتے ہیں، لیکن حقیقت میں ایسا نہیں ہے۔ ورزش کرنے کی وجہ سے سب سے پہلے ان جگہوں کی چربی گھلتی ہے جہاں آپ نے ٹارگٹ بھی نہیں کیا ہوتا۔
بشکریہ برائٹ سائیڈ
