سعودی عرب میں 400 پراسرار دروازے دریافت
ریاض: نیو یارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق آسٹریلوی محقق نے گوگل ارتھ کی مدد سے سعودی عرب کے صحرا میں پتھر سے تعمیر ہوئے 400 پراسراردروازے دریافت کیے ہیں۔ محقق ڈیوڈ کینیڈی کا کہنا ہے کہ ان دروازوں کو تقریباً دو ہزار سے نو ہزار سال قبل تعمیر کیا تھا۔ لیکن ان کے پیچھے کیا مقصد تھا یہ ابھی معلوم نہیں کیا جاسکا۔ یونیورسٹی آف ویسٹرن آسٹریلیا سے منسلک ڈیوڈ کینیڈی کا کہنا ہے کہ ان دروازوں کو زمین سے نہیں دیکھا جاسکتا، لیکن چند سو فٹ بلندی سے اس جگہ کا معائنہ کرنے پر یہ صاف ظاہر ہوتے ہیں۔ ڈیوڈ کے مطابق یہ دیکھنے میں دروازوں جیسے ہیں اورانہیں ہاتھ سے تعمیر کیا گیا ہے۔ محقق ڈیوڈ کینیڈی اور ان کی ٹیم نے کئی دہائیوں تک مشرق وسطیٰ میں آثار قدیمہ پر کام کیا ہے۔ ڈیوڈ کا کہنا ہے کہان کا مزید کہنا تھا کہ اندازے کے مطابق ان 'دروازوں' کو دو ہزار سے نو ہزار سال قبل تعمیر کیا گیا تھا۔تاہم انھوں نے کہا کہ اس دروازوں کا مقصد کیا تھا اس بات کو معلوم کرنا ہے۔ یونیورسٹی آف ویسٹرن آسٹریلیا میں کام کرنے والے ڈیوڈ کینیڈی نے کہا 'آپ اگر زمین پر موجود رہ کر ان کو تلاش کرتے ہیں تو ان کے آثار نہیں ملتے۔ ڈیوڈ کا کہنا ہے کہ انہوں نے ان اسٹرکچرز کو گیٹ کا نام دیا ہے کیونکہ جب اس سٹرکچر کو آپ اوپر سے دیکھتے ہیں تو ایسا لگتا ہے جیسے دو پوسٹوں کے درمیان گیٹ سیدھا پڑا ہے اور دونوں پوسٹوں کے درمیان لمبی سلاخیں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ 40 سال سے اس خطے میں کام کررہے ہیں، اس کے باوجود وہ سیٹیلائٹ سے لی گئی تصاویر میں ان اسٹرکچرز کو دیکھ کر دنگ رہ گئے ۔ کیونکہ یہ نہایت ہی دور افتادہ علاقے میں ہیں اور ایک ایسی جگہ پر ہیں جہاں قدیم آتش فشاں واقع تھا۔ ان کے مطابق یہ ایسا سٹرکچر نہیں لگتا جہاں لوگ رہتے ہوں گے ۔ ابھی دریافت کرنا باقی ہے کہ اس جگہ کا مقصد کیا تھا۔ ڈیوڈ کا کہنا ہے کہ اس اسٹرکچر کو بنانے والوں کے بارے میں زیادہ معلومات نہیں ہیں لیکن اندازہ ہے کہ یہ آج کل کے بدوؤں کے آباؤ اجداد ہوں گے۔ ڈیوڈ نے بتایا کہ ان کی یہ دریافت ایک اتفاق تھا۔ انھوں نے کہا کہ ایک سعودی ڈاکٹر اس علاقے کے آثار قدیمہ کے بارے میں مزید معلومات چاہتا تھا اور اس نے رابطہ کیا۔ ڈیوڈ نے بتایا سعودی ڈاکٹر نے کہامیں اپنے ملک کے آثار قدیمہ کے بارے میں جاننا چاہتا ہوں۔ میں نے گوگل ارتھ پر اس علاقے میں عجیب قسم کے اسٹرکچر دیکھے ہیں جو آتش فشاں کے بہت قریب واقع ہیں۔ ڈیوڈ نے مزید بتایا کہ سعودی ڈاکٹر نے ڈیوڈ کو اس علاقے کے نقاط بھیجے اورجب میں نے یہ جگہ دیکھی تو میں دنگ رہ گیا۔ ڈیوڈ کینیڈی کی یہ تحقیق اریبیئن آرکیولوجی جرنل میں شائع ہو گی۔ بشکریہ NYtimes
