Aaj Logo

شائع 13 فروری 2023 09:50am

شیخ رشید کی درخواست ضمانت پر فریقین کو 16 فروری کیلئے نوٹس جاری

اسلام آباد ہائیکورٹ نے سابق وفاقی وزیرداخلہ شیخ رشید کی درخواست ضمانت پر فریقین کو 16 فروری کے لئے نوٹس جاری کردیا۔

اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے آصف زرداری پر الزامات سے متعلق درج مقدمے میں شیخ رشید کی درخواست ضمانت پر سماعت کی۔

مزید پڑھیں: شیخ رشید کی ضمانت بعد از گرفتاری کی درخواست سماعت کیلئے مقرر

درخواست گزار کی جانب سے سلمان اکرم راجہ ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے۔

سلمان اکرم راجہ ایڈووکیٹ نے مؤقف اپنایا کہ درخواست گزارایک ضعیف آدمی ہیں، قریب کی تاریخ دے دیں۔

عدالت نے فریقین کو نوٹس جاری کر تے ہوئے سماعت 16 فروری تک ملتوی کردی۔

مزید پڑھیں: شیخ رشید کی مری میں درج مقدمےمیں درخواست ضمانت منظور

یاد رہے کہ 10 فروری کو مقامی عدالت سے درخواست خارج ہونے کے بعد شیخ رشید نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں ضمانت بعد از گرفتاری کی درخواست دائر کی تھی جو 13 فروری کو سماعت کے لئے مقرر کی گئی تھی۔

شیخ رشید کی گرفتاری کا پس منظر

شیخ رشید احمد کے خلاف اسلام آباد کے تھانہ آب پارہ میں ایک شہری نے مقدمے کے لئے درخواست دی تھی، یہ درخواست شیخ رشید کے اس بیان کے حوالے سے تھی جس میں انہوں نے پی پی رہنما آصف زرداری پر عمران خان کو قتل کرنے کی سازش کا الزام لگایا تھا۔

تھانہ آب پارہ نے شیخ رشید کو نوٹس جاری کیا جس میں انہیں پیش ہونے اور اپنے دعوے کے ثبوت پیش کرنے کے لیے کہا گیا۔

مزید پڑھیں: شیخ رشید کی درخواست ضمانت مسترد کردی گئی

شیخ رشید کا کہنا تھا کہ انہوں نے وکیل کے لیے نوٹس کا جواب دینے کی کوشش کی لیکن پولیس نے قبول نہیں کیا۔

بعد ازاں شیخ رشید کی جانب سے ہاتھ سے لکھی گئی ایک تحریر وائرل ہوئی جس میں انہوں نے کہاکہ انہوں نے عمران خان کے بیان کی بنیاد پر زرداری سے متعلق الزام عائد کیا تھا اور ان کے پاس مزید کوئی ثبوت نہیں۔

شیخ رشید نے اسلام آباد پولیس کے نوٹس کو چیلنج بھی کیا جس پر اسلام آباد ہائیکورٹ میں سماعت ہوئی۔

پولیس نے تھانے کا نوٹس معطل کرتے ہوئے آئی جی کوہدایت کی وہ کسی سینئر افسر کو مقرر کریں جو 6 فروری کو عدالت کے سامنے پیش ہو۔

عدالتی سماعت کے حوالے سے اسلام آباد پولیس نے ایک بیان بھی جاری کیا جس میں کہا گیا کہ عدالت عالیہ نے سینئیر لاء افسر کو پیش ہونے کا حکم دیا ہے، معاملہ عدالت میں زیر سماعت ہے اس لیے کسی قسم کی رائے زنی نہیں کی جاسکتی ۔

عدالت کا حکم واضح ہے اس لیے من پسند تشریح سے گریز کریں، متعلقہ افراد سے گذارش ہے کہ حقائق کو توڑ موڑ کر پیش نہ کریں۔

Read Comments