شائع 09 فروری 2026 09:53am

ایپسٹین اسکینڈل: برطانیہ اور ناروے کے بڑے نام عہدوں سے مستعفی

جیفری ایپسٹین فائلوں کے منظر عام پر آنے کے بعد برطانوی وزیرِاعظم کیئر اسٹارمر کے چیف آف اسٹاف مورگن مک سویینی نے اتوار کے روز اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔ مک سویینی نے کہا کہ انہوں نے پیٹر مینڈلسن کو امریکا میں برطانیہ کا سفیر مقرر کرنے کا مشورہ دینے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ مینڈلسن کے جنسی مجرم جیفری ایپسٹین کے ساتھ کافی گہرے تعلقات تھے۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق یہ استعفیٰ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب نئی جاری کردہ ایپسٹین فائلوں میں لیبر پارٹی کے سینئر رہنما پیٹر مینڈلسن اور جیفری ایپسٹین کے تعلقات کی گہرائی آشکار ہوئی۔ انہی انکشافات کے بعد وزیرِاعظم کیئر اسٹارمر کو اقتدار میں اپنے 18 ماہ کے دوران سب سے سنگین بحران کا سامنا ہے، جس کی بنیادی وجہ 2024 میں مینڈلسن کو واشنگٹن بھیجنے کا فیصلہ قرار دیا جا رہا ہے۔

48 سالہ مورگن مک سویینی، جو کیئر اسٹارمر کے اقتدار تک پہنچنے میں ایک کلیدی حکمتِ عملی ساز سمجھے جاتے تھے، کا استعفیٰ لیبر حکومت کے لیے ایک اور بڑا دھچکا ہے۔ یہ بحران اس وقت پیدا ہوا ہے جب لیبر پارٹی جدید برطانوی تاریخ کی سب سے بڑی پارلیمانی اکثریت حاصل کرنے کے محض دو سال بھی مکمل نہیں کر سکی۔

مورگن مک سویینی نے اکتوبر 2024 میں چیف آف اسٹاف کا عہدہ سنبھالا تھا، جب وہ برطانوی خاتون سیاستدان سو گرے کے استعفیٰ کے بعد اس منصب پر تعینات کیے گئے تھے۔ سو گرے نے تنخواہوں سے متعلق تنازع کے بعد استعفیٰ دیا تھا۔

30 جنوری کو امریکا میں جاری کی گئی فائلوں کے بعد پولیس نے سرکاری عہدے کے غلط استعمال کے الزامات پر تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ ان فائلوں میں اشارہ دیا گیا ہے کہ پیٹر مینڈلسن نے 2009 اور 2010 کے عالمی مالیاتی بحران کے دوران، بطور سرکاری وزیر، مارکیٹ سے متعلق حساس معلومات جیفری ایپسٹین کو فراہم کی تھیں۔

اپنے بیان میں مورگن مک سویینی کا کہنا تھا کہ پیٹر مینڈلسن کو تعینات کرنے کا فیصلہ غلط تھا۔ اس فیصلے نے ہماری جماعت، ہمارے ملک اور سیاست پر عوام کے اعتماد کو نقصان پہنچایا ہے۔ جب مجھ سے پوچھا گیا تو میں نے وزیرِاعظم کو یہ تقرری کرنے کا مشورہ دیا اور میں اس مشورے کی مکمل ذمہ داری قبول کرتا ہوں۔

اپوزیشن کنزرویٹو پارٹی کی رہنما کیمی بیڈینوک نے کہا کہ یہ استعفیٰ بہت پہلے آ جانا چاہیے تھا اور اب کیئر اسٹارمر کو اپنے خوفناک فیصلوں کی ذمہ داری خود لینا ہوگی۔

دوسری جانب ناروے کی وزارتِ خارجہ نے اتوار کے روز اعلان کیا ہے کہ معروف سفارتکار اور سفیر مونا جول نے جنسی مجرم جیفری ایپسٹین سے روابط کے معاملے پر سنگین غلط فیصلے کے باعث اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔

وزارتِ خارجہ کے مطابق مونا جول کو رواں ہفتے کے آغاز میں امریکی حکومت جانب سے جاری کی گئی فائلوں میں ایپسٹین سے تعلقات سامنے آنے کے بعد اردن اور عراق میں ناروے کی سفیر کے عہدے سے معطل کر دیا گیا تھا، جبکہ ان روابط کی تحقیقات کے لیے اندرونی انکوائری بھی شروع کی گئی تھی۔

ناروے کے وزیرِ خارجہ ایسپن بارتھ ایڈے نے اپنے بیان میں کہا کہ مونا جول کا سزا یافتہ جنسی مجرم جیفری ایپسٹین سے رابطہ ایک سنگین غلط فیصلے کی نشاندہی کرتا ہے۔ یہ معاملہ اس عہدے کے لیے درکار اعتماد کو دوبارہ بحال کرنا مشکل بنا دیتا ہے۔

Read Comments