اپ ڈیٹ 15 فروری 2026 05:45pm

راولپنڈی: بانی پی ٹی آئی عمران خان کا اڈیالہ جیل میں طبی معائنہ مکمل

راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کا طبی معائنہ مکمل ہونے کے بعد ڈاکٹرز کی ٹیم واپس روانہ ہوگئی۔

بانی پی ٹی آئی عمران خان کا اڈیالہ جیل میں طبی معائنہ مکمل ہوگیا ہے جس کے بعد سینئر ڈاکٹرز پر مشتمل ٹیم اڈیالہ جیل سے واپس روانہ ہوگئی ہے۔

واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے 16 فروری سے قبل عمران خان کا طبی مکمل طبی معائنہ کرنے کے احکامات جاری کیے تھے۔

سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کے مطابق مختلف اسپتالوں کےماہر ڈاکٹرز پر مشتمل ٹیم اڈیالہ جیل پہنچی تھی جس نے سابق وزیراعظم عمران خان کی آنکھوں کامعائنہ کیا۔

جیل سپرنٹنڈنٹ کا کہنا تھا کہ میڈیکل بورڈ کی نگرانی میں عمران خان کے مکمل طبی معائنے کی رپورٹ بھی جلد جاری کیے جانے کا امکان ہے۔

اس سے قبل ہولی فیملی اسپتال کی ایک ایمبولینس اڈیالہ جیل پہنچی تھی جسے گیٹ نمبر پانچ کے ذریعے جیل کے اندر داخل کیا گیا تھا۔

ایمبولینس میں مختلف ادویات، طبی آلات اور خاص طور پر آنکھوں کے معائنے کے لیے استعمال ہونے والی مشینیں لائی گئیں۔

حکومت پنجاب کو عمران خان کی ابتدائی طبی رپورٹ بھی ارسال کر دی گئی ہے۔ اس رپورٹ میں ان کے بلڈ پریشر، نبض، جسمانی درجہ حرارت اور شوگر لیول کا مکمل ریکارڈ شامل کیا گیا ہے۔

اس کے علاوہ ان کی آنکھوں کی موجودہ صورتحال کے بارے میں بھی تحریری طور پر آگاہ کیا گیا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جیل کا عملہ روزانہ کی بنیاد پر ان کا معائنہ کرتا ہے اور تمام ریکارڈ باقاعدگی سے مرتب کیا جا رہا ہے۔

وفاقی حکومت نے اس معاملے کی حساسیت کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک خاص میڈیکل پینل تشکیل دیا تھا جس میں ڈاکٹر امجد اور ڈاکٹر ندیم قریشی شامل ہیں۔ یہ پینل عمران خان کا معائنہ کرنے کے بعد اپنی سفارشات پیش حکومت کو پیش کرے گا۔

حکومت کا کہنا ہے کہ اسی میڈیکل بورڈ کی رپورٹ کی روشنی میں یہ فیصلہ کیا جائے گا کہ آیا عمران خان کو علاج کے لیے اسپتال منتقل کرنے کی ضرورت ہے یا نہیں۔

دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف نے اپنے بانی کی صحت پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ پارٹی کا موقف ہے کہ یہ ایک انتہائی سنجیدہ معاملہ ہے اور علاج کے تمام مراحل کو مکمل طور پر شفاف ہونا چاہیے۔

حکومتی حلقوں کا کہنا ہے کہ آئندہ کا لائحہ عمل میڈیکل بورڈ کی تجاویز سامنے آنے کے بعد طے کیا جائے گا۔ جیل کے اندر طبی معائنہ مکمل ہونے کے بعد ماہرین کی رپورٹ کا انتظار کیا جا رہا ہے۔

Read Comments