عمران خان کا معائنہ: اڈیالہ جیل میں ایمبولینس پہنچا دی گئی، ڈاکٹروں کی آمد متوقع
راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں قید پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی صحت کے حوالے سے اہم سرگرمیاں سامنے آئی ہیں۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق ہولی فیملی اسپتال کی ایک ایمبولینس جیل پہنچ گئی ہے جسے گیٹ نمبر پانچ کے ذریعے اندر روانہ کیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق، اس ایمبولینس میں مختلف ادویات، طبی آلات اور خاص طور پر آنکھوں کے معائنے کے لیے استعمال ہونے والی مشینیں لائی گئی ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ماہر ڈاکٹروں کی ایک ٹیم بھی جیل پہنچ رہی ہے جو بانی پی ٹی آئی کا تفصیلی طبی معائنہ کرے گی۔
حکومت پنجاب کو عمران خان کی ابتدائی طبی رپورٹ بھی ارسال کر دی گئی ہے۔ اس رپورٹ میں ان کے بلڈ پریشر، نبض، جسمانی درجہ حرارت اور شوگر لیول کا مکمل ریکارڈ شامل کیا گیا ہے۔
اس کے علاوہ ان کی آنکھوں کی موجودہ صورتحال کے بارے میں بھی تحریری طور پر آگاہ کیا گیا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جیل کا عملہ روزانہ کی بنیاد پر ان کا معائنہ کرتا ہے اور تمام ریکارڈ باقاعدگی سے مرتب کیا جا رہا ہے۔
وفاقی حکومت نے اس معاملے کی حساسیت کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک خاص میڈیکل پینل تشکیل دے دیا ہے جس میں ڈاکٹر امجد اور ڈاکٹر ندیم قریشی شامل ہیں۔ یہ پینل جیل میں عمران خان کا معائنہ کرنے کے بعد اپنی سفارشات پیش کرے گا۔
حکومت کا کہنا ہے کہ اسی میڈیکل بورڈ کی رپورٹ کی روشنی میں یہ فیصلہ کیا جائے گا کہ آیا عمران خان کو علاج کے لیے اسپتال منتقل کرنے کی ضرورت ہے یا نہیں۔
دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف نے اپنے بانی کی صحت پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ پارٹی کا موقف ہے کہ یہ ایک انتہائی سنجیدہ معاملہ ہے اور علاج کے تمام مراحل کو مکمل طور پر شفاف ہونا چاہیے۔
حکومتی حلقوں کا کہنا ہے کہ آئندہ کا لائحہ عمل میڈیکل بورڈ کی تجاویز سامنے آنے کے بعد طے کیا جائے گا۔ فی الحال جیل کے اندر طبی معائنے کی تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں اور ماہرین کی رپورٹ کا انتظار کیا جا رہا ہے۔

















