100 سال قبل انگریز سرکار کو قرضہ دینے والے خاندان کا برطانیہ پر مقدمہ
یہ واقعہ ہے 1917 کا، جب دنیا پہلی جنگِ عظیم کی لپیٹ میں تھی۔ اسی دوران سہور کے معروف تاجر سیٹھ جمعہ لال رتھیا نے مبینہ طور پر برطانوی حکومت کو 35 ہزار روپے بطور قرض دیے تھے۔ اس دور میں یہ ایک بہت بڑی رقم تھی، جو کئی جاگیروں اور سلطنتی منصوبوں کو تبدیل کر سکتی تھی۔
بھارتی میڈیا کے مطابق رتھیا خاندان کا کہنا ہے کہ یہ رقم آج تک واپس نہیں کی گئی۔ سیٹھ جمعہ لال کے پوتے، وویک رتھیا کے مطابق خاندان نے حال ہی میں اپنے پرانے کاغذات، وصیت ناموں اور خطوط میں وہ ثبوت دریافت کیے ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ برطانوی حکومت نے یہ رقم ایک ’’وار لون‘‘ کے طور پر لی تھی تاکہ بھوپال ریاست میں انتظامی امور کو بہتر بنایا جا سکے۔
وویک رتھیا کا کہنا ہے، ’’میرے دادا نے 1917 میں برطانوی حکومت کو 35 ہزار روپے قرض دیے تھے۔ آج ایک صدی گزرنے کے باوجود وہ رقم واپس نہیں ملی۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ ان کے پاس اس قرض سے متعلق سرکاری تصدیقی دستاویزات موجود ہیں، اور اب وہ برطانوی حکومت کو باضابطہ قانونی نوٹس بھیجنے کی تیاری کر رہے ہیں تاکہ اس تاریخی قرض کی واپسی ممکن ہو سکے۔
سیٹھ جمعہ لال رتھیا کا انتقال 1937 میں ہوا، مگر ان کے بعد یہ معاملہ رفتہ رفتہ پسِ پشت چلا گیا۔ خاندان کا دعویٰ ہے کہ اگر اس رقم کو آج کے حساب سے سونا یا دیگر مالی قدر میں تبدیل کیا جائے تو یہ کروڑوں روپے کے برابر بنتی ہے۔
قانونی ماہرین کے مطابق اگرچہ ایسے تاریخی دعوے نہایت پیچیدہ ہوتے ہیں، لیکن اگر کسی خاندان کے پاس مستند دستاویزی ثبوت ہوں تو یہ مقدمہ بین الاقوامی قانون کے مطابق ایک غیر معمولی قانونی بحث کو جنم دے سکتا ہے، خاص طور پر جب معاملہ کسی نوآبادیاتی دور کے معاہدے سے جڑا ہو۔
آزادی سے پہلے رتھیا خاندان سہور اور بھوپال کے سب سے معزز اور امیر خاندانوں میں شمار ہوتا تھا۔ ان کے پاس وسیع زمینیں تھیں جن میں سے آج بھی کہا جاتا ہے کہ سہور کی 20 سے 30 فیصد آبادی ان کی سابقہ زمینوں پر آباد ہے۔
خاندان اب بھی بھوپال، اندور اور سہور میں جائدادوں کا مالک ہے اور کھیتی باڑی، ہوٹلنگ اور رئیل اسٹیٹ کے کاروبار سے وابستہ ہے، اگرچہ کئی پرانی زمینوں کے کرایوں اور ملکی تنازعات میں پھنسے ہونے کے سبب انہیں قانونی پیچیدگیوں کا سامنا بھی رہتا ہے۔