شائع 27 فروری 2026 04:24pm

ڈیڑھ فٹ کی لڑکی میٹرک کی طالبہ، ماں کی گود میں اسکول جاتی ہے

بھارت کی ریاست اوڈیشہ سے تعلق رکھنے والی 14 سالہ طالبہ سنیتا اپنی جسمانی معذوری کے باوجود تعلیم کا سفر جاری رکھے ہوئے ہے۔ اس کا قد صرف ڈیڑھ فٹ ہے، مگر اس کے حوصلے اور عزم نے اسے عام بچوں کی طرح اسکول جانے اور امتحان دینے کا حوصلہ دیا ہے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق ریاست اوڈیشہ کے ضلع دھینکنال ضلع کے علاقے کاماخیا نگر بلاک کے ایک گاؤں کاتا سے تعلق رکھنے والی 14 سالہ سنیتا نائک اس وقت دسویں جماعت کے بورڈ امتحانات میں شریک ہے۔ اس کا قد محض ڈیڑھ فٹ ہے، مگر جس اعتماد اور مستقل مزاجی کے ساتھ وہ امتحان دے رہی ہے، اس نے اسے دیگر طلبہ میں نمایاں بنا دیا ہے۔

سنیتا اس سال کاماخیا نگر بلاک کے پنچایتی راج ہائی اسکول میں قائم امتحانی مرکز میں کلاس دہم کے امتحانات دے رہی ہے۔ ہائی اسکول سرٹیفکیٹ (ایچ ایس سی) کے امتحانات 19 فروری سے شروع ہوئے اور اب تک وہ ایک بھی پرچہ چھوڑے بغیر تمام امتحانات میں شریک ہوئی ہے۔

جسمانی معذوری کے باعث سنیتا کو چلنے میں دشواری پیش آتی ہے اور وہ اپنے ہم عمر بچوں کی طرح واضح گفتگو بھی نہیں کر پاتی۔ ہر امتحانی دن اس کی والدہ سنجو نائک اسے اپنی گود میں اٹھا کر مرکز تک لے کر آتی ہیں۔ امتحان کے دوران ایک دور کے رشتہ دار بطور معاون لکھاری اس کے ساتھ موجود ہوتا ہے۔ سنیتا آہستہ آواز میں سوالوں کے جواب بولتی جاتی ہے اور معاون انہیں جوابی کاپی میں تحریر کرتا ہے، جبکہ اس کی والدہ صبر کے ساتھ باہر بیٹھی بیٹی کی کامیابی کے لیے دعا کرتی رہتی ہیں۔

سنیتا دو بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹی ہے اور نگمانند ہائی اسکول کی طالبہ ہے۔ اس کی والدہ کے مطابق وہ پیدائشی جسمانی نقص کے ساتھ پیدا ہوئی تھی۔ تین سال کی عمر تک اسے دھینکنال اور کٹک کے مختلف ڈاکٹروں کو دکھایا گیا، مگر علاج ممکن نہ ہو سکا۔ اس کے باوجود والدین نے فیصلہ کیا کہ اس کی تعلیم متاثر نہیں ہونے دیں گے۔

والدہ سنجو نائک کا کہنا ہے کہ جب سنیتا کو مقامی اسکول میں داخل کرایا گیا تو انہیں خوشگوار حیرت ہوئی کہ اسے کتابوں اور رنگوں سے غیر معمولی دلچسپی ہے۔ جسمانی کمزوری اور بولنے میں دشواری کے باوجود اس نے کبھی تعلیم سے منہ نہیں موڑا، اسی لیے والدین نے بھی یقینی بنایا کہ وہ باقاعدگی سے اسکول جائے۔

سنیتا کی زندگی میں مشکلات اس وقت مزید بڑھ گئیں جب تقریباً بارہ سال قبل اس کے والد، جو ایک چھوٹے کاشتکار اور مزدور تھے، انتقال کر گئے۔ اس کے بعد سے سنجو نائک ہی محنت مزدوری کر کے اپنے دونوں بچوں کی پرورش کر رہی ہیں۔ وہ مقامی اسکول میں بطور باورچی کام کرتی ہیں اور کبھی کبھار دیہاڑی مزدوری بھی کرتی ہیں۔ خاندان کے پاس تھوڑی سی زمین ہے، مگر اس سے ہونے والی آمدنی نہایت محدود ہے۔ سنیتا کا 20 سالہ بھائی راجیش بھی اپنی تعلیم جاری رکھے ہوئے ہے۔

مشکلات اور محدود وسائل کے باوجود سنیتا کا تعلیمی سفر جاری ہے، اور وہ اپنے عزم اور مستقل مزاجی کے ساتھ میٹرک کے امتحانات مکمل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

Read Comments