شائع 28 فروری 2026 11:56am

لیونارڈو ڈی کیپریو پر بچوں کا گوشت کھانے کا الزام: حقیقت کیا ہے؟

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر حالیہ دنوں میں ایک ہولناک دعویٰ تیزی سے وائرل ہوا جس میں کہا گیا کہ ہالی ووڈ اداکار لیونارڈو ڈی کیپریو نے مبینہ طور پر بچوں کا 70 پاؤنڈ گوشت کھایا، اور یہ بات مبینہ طور پر نئی جاری ہونے والی جیفری ایپسٹین فائلز سے سامنے آئی ہے۔

اس کے ساتھ ہی کچھ پوسٹس میں یہ تاثر بھی دیا گیا کہ اداکار نے فلم ساز ووڈی ایلون کے ساتھ مبینہ ای میلز میں خود کو آدم خور قرار دیا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق جب اس معاملے کی تحقیق کی گئی تو دستیاب عدالتی ریکارڈ، امریکی محکمہ انصاف کی جانب سے جاری کی گئی لاکھوں ایپسٹین سے متعلق فائلز، اور مختلف بین الاقوامی میڈیا اداروں کے فیکٹ چیکس کا جائزہ لینے سے واضح ہوتا ہے کہ ان سنسنی خیز الزامات کی کوئی بنیاد موجود نہیں۔

امریکی محکمہ انصاف کی جانب سے جاری ہونے والے کروڑوں صفحات پر مشتمل ریکارڈ میں لیونارڈو ڈی کیپریو کا نام صرف چند مقامات پر بطور ریفرنس سامنے آتا ہے، اور وہ بھی کاروباری یا سوشل نوعیت کی بات چیت کے تناظر میں، نہ کہ کسی جرم کے حوالے سے۔

جس کے مطابق ایک ای میل میں سابق برطانوی سیاست دان پیٹر مینڈلسن نے جیفری ایپسٹین سے دریافت کیا کہ کیا وہ کسی ایسی غیر امریکی کمپنی کو جانتے ہیں جو لیونارڈو ڈی کیپریو کو برانڈ اینڈورسمنٹ کے لیے لینا چاہتی ہو، خاص طور پر ایشیائی مارکیٹس وغیرہ اور اس ای میل میں کسی مجرمانہ سرگرمی یا غیر قانونی عمل کا کوئی ذکر نہیں ملتا۔

ایک اور ای میل تھریڈ میں، جو 2016 کے دوران کی ہے جس میں ممکنہ ڈنر میٹنگ کے بارے میں پوچھا گیا کہ آیا دی کیپریو ڈنر میں شرکت کے لیے دستیاب ہوں گے یا نہیں۔ دستیاب ریکارڈ سے یہ بھی ثابت نہیں کہ ایسا کوئی ڈنر واقعی منعقد ہوا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ایپسٹین کی دستاویزات میں کسی شخص کا نام صرف اس بنیاد پر مجرمانہ ثابت نہیں ہوتا جب تک اس کے خلاف کوئی ٹھوس ثبوت یا قانونی کارروائی نہ ہو اور تمامتر دستیاب عدالتی ریکارڈ، سرکاری فائلز اور آزاد فیکٹ چیک رپورٹس یہی واضح کرتے ہیں کہ ان الزامات کی بنیاد سازشی نظریات، جعلی اسکرین شاٹس اور سنسنی خیز مگر بے بنیاد کہانیوں پر ہے جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔

Read Comments