وزیراعظم کا کفایت شعاری پلان: وفاقی اور صوبائی وزیروں کی تنخواہیں بند، سرکاری گاڑیاں کھڑی کرنے کا حکم

وزیراعظم شہبازشریف نے جنگی صورت حال کے باعث کفایت شعاری کے اضافی اقدامات کی منظوری دے دی۔
اپ ڈیٹ 09 مارچ 2026 07:12pm

وزیراعظم شہبازشریف نے جنگی صورت حال کے باعث کفایت شعاری کے اضافی اقدامات کی منظوری دے دی ہے، کفایت شعاری کے اقدامات تمام وزارتوں، محکموں، خود مختار اداروں، دفاعی تنظیموں، عدلیہ اور پارلیمنٹ میں یکساں لاگو ہوں گے۔

پیر کو وزیراعظم شہباز شریف کی زیرصدارت کفایت شعاری سے متعلق اہم اجلاس ہوا، جس میں وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وفاقی وزرا احسن اقبال، اویس لغاری، علی پرویز ملک، عطا اللہ تارڑ، مصدق مسعود ملک اور دیگر حکام نے شرکت کی جب کہ چاروں صوبوں کے وزراے اعلیٰ اور وزیر اعظم آزاد کشمیر ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شریک ہوئے۔

وزیراعظم نے جنگی صورت حال کے باعث کفایت شعاری کے اضافی اقدامات کی منظوری دے دی ہے جب کہ کفایت شعاری کے اقدامات تمام وزارتوں، محکموں، خود مختار اداروں، دفاعی تنظیموں، عدلیہ اور پارلیمنٹ میں یکساں لاگو ہوں گے۔

ذرائع کے مطابق تمام سرکاری گاڑیوں کو اگلے 2 ماہ کے لیے ایندھن کی فراہمی میں 50 فیصد کی کمی کی جائے گی، ایندھن کی کمی سرکاری بسوں، ایمبولینس، موٹر بائیکس وغیرہ جیسی آپریشنل گاڑیوں کےلیے نہیں ہے، ایندھن کی کمی سے وفاقی سطح پر ساڑھے چار ارب روپے کی بچت متوقع ہے۔

وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی 60 فیصد سرکاری گاڑیاں دو ماہ کے لیے گراوٴنڈ کی جائیں گی، اسی طرح جون 2026 تک تمام قسم کی نئی گاڑیوں کی خریداری پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے، جون 2026 تک تمام قسم کی نئی گاڑیوں کی خریداری پر مکمل پابندی عائد ہوگی۔

اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ وفاقی اور صوبائی کابینہ کے تمام وزرا، مشیر اور معاونین رضا کارانہ طور پر دو ماہ کی تنخواہ اور الاوٴنسز سے دستبردار ہوں گے۔

قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے تمام اراکین اسمبلی کی تنخواہوں اور الاوٴنسز میں دو ماہ کے لیے 20 فیصد رضاکارانہ کٹوتی کی جائے گی جب کہ تمام وفاقی وصوبائی محکموں میں گریڈ 20 اور اوپر کے تین لاکھ روپے سے زائد تنخواہ والے سرکاری افسروں کی دو دن کی تنخواہ کی کٹوتی ہوگی۔

ذرائع کے مطابق تمام وفاقی اور صوبائی محکموں کے مالی سال کی چوتھی ساماہی کے غیر ترقیاتی بجٹ میں 20 فیصد کٹوتی کا بھی اعلان کیا گیا ہے جب کہ بجٹ کٹوتی سے وفاقی سطح پر 22 ارب روپے کی بچت متوقع ہے۔

Read Comments