وزیراعظم کا کفایت شعاری پلان: وفاقی اور صوبائی وزیروں کی تنخواہیں بند، سرکاری گاڑیاں کھڑی کرنے کا حکم

مشکل صورت حال میں عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کریں گے: وزیراعظم شہباز شریف
شائع 09 مارچ 2026 06:24pm

وزیراعظم شہباز شریف نے صورت حال بہتر ہونے تک کابینہ اراکین کی تنخواہوں اور مراعات میں کمی کا عندیہ دے دیا اور کہا ہے کہ وفاقی کابینہ ارکان بھی قومی کفایت شعاری پلان میں اپنا حصہ ڈالیں گے، مشکل صورت حال میں عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کریں گے۔

پیر کو وزیراعظم شہباز شریف کی زیرصدارت کفایت شعاری سے متعلق اہم اجلاس ہوا، جس میں وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وفاقی وزرا احسن اقبال، اویس لغاری، علی پرویز ملک، عطا اللہ تارڑ، مصدق مسعود ملک اور دیگر حکام نے شرکت کی جب کہ چاروں صوبوں کے وزراے اعلیٰ اور وزیر اعظم آزاد کشمیر ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شریک ہوئے۔

اجلاس میں تنخواہوں اور مراعات میں کمی سمیت کفایت شعاری اور سادگی پر مبنی تجاویز اور سفارشات پر حتمی لائحہ عمل طے کیا گیا جب کہ اجلاس میں جنگ کے ممکنہ معاشی اثرات اور ملکی معیشت کو مستحکم رکھنے کے اقدامات کا جائزہ بھی لیا گیا۔

اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ علاقائی اور عالمی صورت حال کے پاکستان کی معیشت پر اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، توانائی کی فراہمی اور عالمی منڈیوں میں قیمتوں کے اتار چڑھاؤ کے حوالے سے چیلنجز درپیش ہیں، موجودہ بین الاقوامی صورت حال کے تناظر میں معاشی استحکام کے لیے بروقت اقدامات ناگزیر ہیں۔

اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ حکومت کی صورت حال پر کڑی نظر، قومی معیشت کا استحکام اولین ترجیح ہے، مشکل صورت حال میں حکومت عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کرے گی۔

وزیراعظم نے وفاقی کابینہ، منتخب نمائندوں اور اعلیٰ سرکاری افسران کو خصوصی ہدایات اور وسائل کے مؤثر استعمال اور عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے مشترکہ کردار ادا کرنے کی ضرورت پر زور دیا جب کہ تمام سرکاری ملازمین اور وزرا کو سادگی اور کفایت شعاری اختیار کرنے کی تلقین کی گئی۔

اجلاس میں کفایت شعاری اور بچت سے متعلق ہدایات صنعتی اور زرعی شعبوں پر لاگو نہ کرنے کا پلان، کفایت شعاری کا بوجھ معاشرے کے تمام طبقات کو منصفانہ طور پر برداشت کرنے پر زور جب کہ مراعات یافتہ اور اشرافیہ طبقات کو اس حوالے سے مثال قائم کرنے کی تلقین کی گئی جب کہ اجلاس میں کفایت شعاری اور سادگی پر مبنی متعدد تجاویز اور سفارشات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ ملک میں پیٹرول، ڈیزل اور دیگر پیٹرولیم مصنوعات کے مناسب ذخائر موجود ہیں، کسی بھی ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کے لیے پیشگی انتظامات مکمل ہیں، توانائی کے دانشمندانہ استعمال اور ایندھن کے محتاط استعمال پر بھی زور دیا گیا۔

اجلاس میں سرکاری وسائل کی بچت اور توانائی کے مؤثر استعمال کے لیے طلب اور رسد کی مسلسل نگرانی کا فیصلہ کیا گیا، چاروں صوبوں کے نمائندوں نے بھی عالمی کشیدگی کے تناظر میں پلان سامنے رکھ دیا اور صوبوں میں معاشی سرگرمیوں، توانائی کے استعمال کی سفارشات سے آگاہ کیا گیا۔

وزیراعظم نے انتظامی تیاریوں کے حوالے سے صوبوں کو مؤثر عملدرآمد کی ہدایت کی جب کہ آن لائن کام کرنے والوں کو بلا رکاوٹ انٹر نیٹ کی سہولت فراہم کرنے کی ہدایت کردی گئی۔

ذرائع کے مطابق وفاقی کابینہ ارکان بھی قومی کفایت شعاری پلان میں اپنا حصہ ڈالیں گے جب کہ شہبازشریف نے صورت حال بہتر ہونے تک تنخواہوں اور مراعات میں بھی کمی کا عندیہ دیا۔