ٹرمپ کے ایران پر حملے مؤخر کرنے کے اعلان کے بعد خام تیل کی قیمتیں گر گئیں
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران کے بجلی گھروں پر حملے 5 روز کیلئے موخر کرنے کے اعلان کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں بڑی کمی ریکارڈ ہوئی ہے۔
عالمی صورتحال میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں کمی کے آثار ظاہر ہونے لگے ہیں۔ تازہ پیش رفت میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تصدیق کی ہے کہ ایران کے ساتھ براہِ راست اور مثبت مذاکرات جاری ہیں۔
صدر ٹرمپ کے بیان کے بعد عالمی آئل مارکیٹ میں فوری ردعمل دیکھنے میں آیا اور تیل کی قیمتوں میں بڑی کمی ریکارڈ کی گئی۔
برینٹ کروڈ کی قیمت 14 فیصد سے زائد کمی کے بعد 96 ڈالر فی بیرل تک آ گئی، جبکہ ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ بھی کم ہو کر 84.37 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گیا۔
معاشی ماہرین کے مطابق حالیہ کمی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ سرمایہ کاروں نے کشیدگی میں ممکنہ کمی کو مدنظر رکھتے ہوئے مارکیٹ میں اپنی حکمت عملی تبدیل کر لی ہے۔
امریکی صدر نے اپنے بیان میں کہا کہ گزشتہ دو روز کے دوران امریکا اور ایران کے درمیان نہایت مثبت اور نتیجہ خیز بات چیت ہوئی ہے، جس کا مقصد مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کا مکمل خاتمہ ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ مذاکرات آئندہ دنوں میں بھی جاری رہیں گے، جبکہ امریکا نے ایران کی توانائی تنصیبات پر ممکنہ حملوں کو فی الحال مؤخر کر دیا ہے، جسے کشیدگی کم کرنے کی جانب اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر مذاکرات کا عمل اسی طرح جاری رہا تو خطے میں استحکام آ سکتا ہے، جس کے عالمی معیشت اور توانائی کی منڈی پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔