اُمِّ رباب چانڈیو اہلِ خانہ قتل کیس: پیپلز پارٹی کے رکن اسمبلی سمیت تمام 7 ملزمان بری
سندھ کے شہر دادو کی مقامی عدالت نے اُم رباب چانڈیو کے اہلِ خانہ کے تہرے قتل کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے پاکستان پیپلز پارٹی کے رکن صوبائی اسمبلی سمیت تمام ملزمان کو بری کردیا گیا ہے۔
دادو کی متعلقہ عدالت نے پیر کو امِ رباب کے والد تمندار مختار علی چانڈیو، دادا رئیس کرم اللّٰہ چانڈیو اور چچا قابل چانڈیو کے تہرے قتل کیس کا محفوظ کیا گیا فیصلہ سناتے ہوئے تمام ملزمان کو بری کرنے کا حکم دیا۔
ملزمان کے وکیل کے مطابق عدالت نے دستیاب شواہد اور گواہوں کے بیانات کی روشنی میں یہ فیصلہ سنایا۔ وکیل نے بتایا کہ استغاثہ کی جانب سے الزامات کو ثابت کرنے کے لیے ٹھوس شواہد پیش نہیں کیے جا سکے۔
واضح رہے کہ یہ کیس آٹھ سال سے زیر سماعت تھا اور اسے سندھ کے اہم مقدمات میں شمار کیا جا رہا تھا۔
اُم رباب چانڈیو کے والد، دادا اور چچا کو 17 جنوری 2018ء کو قتل کیا گیا تھا۔ جس کا مقدمہ تھانہ میہڑ میں رکنِ سندھ اسمبلی سردار چانڈیو اور برہان چانڈیو سمیت سات ملزمان کے خلاف درج ہے۔
فیصلے کے بعد اُم رباب چانڈیو نے عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ ریاست کی عدالت کی جانب سے آیا ہے، تاہم عوام حقیقت جان چکی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ”ہم عوام کی عدالت میں یہ کیس جیت چکے ہیں اور میں خود کو سرخرو سمجھتی ہوں۔“ ان کا کہنا تھا کہ وہ اس فیصلے کے خلاف اپیل کریں گی اور انہیں یقین ہے کہ وہ بالآخر انصاف حاصل کریں گی۔
اُم رباب چانڈیو نے مزید کہا کہ کسی ایک ملزم کو بھی سزا نہ ملنا حیران کن ہے، حتیٰ کہ وہ ملزمان بھی بچ گئے جو تین سال تک روپوش رہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ مقدمہ صرف ان کے خاندان تک محدود نہیں تھا بلکہ سندھ میں جاگیردارانہ نظام کے خلاف ایک جدوجہد کی علامت تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ ”ہمارے حوصلے کم نہیں ہوئے بلکہ مزید بلند ہوئے ہیں۔“ انہوں نے الزام عائد کیا کہ فیصلے کے موقع پر دو اضلاع میں کرفیو نافذ کیا گیا اور کہا کہ اس فیصلے سے ایسا تاثر ملتا ہے جیسے طاقتور طبقے کو قانون سے بالاتر سمجھا جا رہا ہو۔
اُم رباب چانڈیو نے اہلِ خانہ کے تہرے قتل کیس سے متعلق عدالتی فیصلہ سامنے آںے کے بعد ویڈیو پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ وہ انصاف حاصل کرنے کے لیے کسی بھی فورم پر آواز بلند کریں گی۔ انہوں نے فیصلہ چیلنج کرنے اور ہائی کورٹ جانے کا عزم ظاہر کیا اور عدالتوں میں سرداروں کے اثر و رسوخ پر بھی سوالات اٹھائے۔
ام رباب چانڈیو نے اپنے ویڈیو پیغام میں کہا کہ عدالتی فیصلے سے قاتلوں کو کھلی چھوٹ ملنے کا تاثر جا رہا ہے، جس سے عدل و انصاف کے نظام پر سنگین سوالیہ نشان لگتا ہے۔ انہوں نے اس امر پر تشویش ظاہر کی کہ تین قتل کے کیسز میں کسی ایک کو بھی سزا نہیں دی گئی۔
انہوں نے عدالتوں پر الزام عائد کیا کہ بعض اوقات سردار اور طاقتور حلقے فیصلوں پر اثر انداز ہوتے ہیں، جس سے عام شہریوں کا اعتماد عدالتی نظام پر کمزور پڑتا ہے۔ ام رباب نے کہا کہ ان کا حوصلہ بلند ہے اور وہ کسی بھی طرح سے نہیں ڈریں گی۔
ام رباب نے واضح کیا کہ وہ اس فیصلے کے خلاف ہر فورم پر آواز اٹھائیں گی اور انصاف حاصل کرنے کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھیں گی۔ انہوں نے کہا، انصاف میرا حق ہے، میں اسے لے کر رہوں گی۔