اُمِّ رباب چانڈیو اہلِ خانہ قتل کیس کا فیصلہ سُنا دیا گیا، تمام ملزمان بری

"عوام کی عدالت میں ہم جیت چکے ہیں" ، فیصلے کے بعد اُم رباب کا ردعمل
اپ ڈیٹ 30 مارچ 2026 11:26am

اُم رباب چانڈیو کے اہلخانہ کے تہرے قتل کیس کا فیصلہ، تہرے قتل کیس کے تمام ملزمان کو بری کردیا گیا.

دادو کی متعلقہ عدالت میں والد تمندار مختار علی چانڈیو، دادا رئیس کرم اللّٰہ چانڈیو اور چچا قابل چانڈیو کے تہرے قتل کیس کا محفوظ کیا گیا فیصلہ سنایا گیا، جس میں عدالت نے تمام ملزمان کو بری کرنے کا حکم دیا۔

وکیل کے مطابق عدالت نے دستیاب شواہد اور گواہوں کے بیانات کی روشنی میں یہ فیصلہ سنایا۔

ان کا کہنا تھا کہ استغاثہ کی جانب سے الزامات کو ثابت کرنے کے لیے ٹھوس شواہد پیش نہیں کیے جا سکے۔

یہ کیس طویل عرصے سے زیر سماعت تھا اور اسے سندھ کے اہم مقدمات میں شمار کیا جا رہا تھا۔

خیال رہے کہ 17 جنوری 2018ء کو اُم رباب چانڈیو کے والد، دادا اور چچا کو قتل کیا گیا تھا۔

مقدمہ تھانہ میہڑ میں رکنِ سندھ اسمبلی سردار چانڈیو اور برہان چانڈیو سمیت 7 ملزمان کے خلاف درج ہے۔


فیصلے کے بعد اُم رباب چانڈیو نے عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ ریاست کی عدالت کی جانب سے آیا ہے، تاہم عوام حقیقت جان چکی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ”ہم عوام کی عدالت میں یہ کیس جیت چکے ہیں اور میں خود کو سرخرو سمجھتی ہوں۔“ ان کا کہنا تھا کہ وہ اس فیصلے کے خلاف اپیل کریں گی اور انہیں یقین ہے کہ وہ بالآخر انصاف حاصل کریں گی۔

اُم رباب چانڈیو نے مزید کہا کہ کسی ایک ملزم کو بھی سزا نہ ملنا حیران کن ہے، حتیٰ کہ وہ ملزمان بھی بچ گئے جو تین سال تک روپوش رہے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ مقدمہ صرف ان کے خاندان تک محدود نہیں تھا بلکہ سندھ میں جاگیردارانہ نظام کے خلاف ایک جدوجہد کی علامت تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ ”ہمارے حوصلے کم نہیں ہوئے بلکہ مزید بلند ہوئے ہیں۔“ انہوں نے الزام عائد کیا کہ فیصلے کے موقع پر دو اضلاع میں کرفیو نافذ کیا گیا اور کہا کہ اس فیصلے سے ایسا تاثر ملتا ہے جیسے طاقتور طبقے کو قانون سے بالاتر سمجھا جا رہا ہو۔