ایران جنگ میں شدت: نئے سپریم لیڈر نیوکلیئر بم بنانے کا حکم دیں گے؟

تاہم گزشتہ ماہ امریکی و اسرائیلی حملوں میں آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت کے بعد صورتحال میں بڑی تبدیلی کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے
شائع 30 مارچ 2026 10:45am

ایران کے جوہری پروگرام کے عالمی سطح پر منظرِ عام پر آنے کو دو دہائیوں سے زائد عرصہ گزر چکا ہے، اور تہران کا یہ واضح مؤقف رہا ہے کہ اس کے عزائم پُرامن ہیں اور وہ جوہری ہتھیار بنانے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔ اُس وقت کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے یہاں تک ایک فتویٰ بھی جاری کیا تھا جس کے تحت اسلامی قانون کے مطابق جوہری ہتھیاروں کی تیاری کو ممنوع قرار دیا گیا تھا۔

تاہم گزشتہ ماہ امریکی و اسرائیلی حملوں میں آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت کے بعد صورتحال میں بڑی تبدیلی کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

امریکی نشریاتی ادارے سی این این کے مطابق مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت سے ایران کو اس فتویٰ پر نظرثانی کا موقع مل سکتا ہے، اور ملک میں عوامی و اشرافیہ سطح پر بحث پہلے ہی اسی سمت بڑھ رہی ہے۔

کوئنسی انسٹیٹیوٹ فار ریسپانسبل اسٹیٹ کرافٹ سے وابستہ تجزیہ کار ٹریٹا پارسی کے مطابق جوہری فتویٰ اب ختم ہو چکا ہے۔ اشرافیہ اور عوامی رائے میں نمایاں تبدیلی آ چکی ہے، جو حیران کن نہیں کیونکہ ایران کو مذاکرات کے دوران دو مرتبہ جوہری طاقت رکھنے والی ریاستوں نے نشانہ بنایا۔

دوسری جانب بعض ماہرین کا خیال ہے کہ اگر ایران جوہری صلاحیت حاصل کرنے کی طرف بڑھتا ہے تو اس کا مقصد نہ کہ جارحانہ استعمال بلہ خود کا دفاع کرنا ہوگا۔ تاہم اس حوالے سے شکوک و شبہات بھی موجود ہیں، خصوصاً اس لیے کہ خطے میں اس کے اثرات دیگر ممالک، خاص طور پر سعودی عرب، کو بھی اسی راستے پر لے جا سکتے ہیں۔

مجموعی طور پر دیکھا جائے تو ایران کی جوہری پالیسی ایک پیچیدہ توازن کا شکار ہے، جہاں ایک طرف اصولی اور مذہبی پابندیاں ہیں تو دوسری جانب سکیورٹی خدشات اور بیرونی دباؤ بھی ہے۔

موجودہ حالات میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ ایران اب بھی محتاط حکمت عملی اپنائے ہوئے ہے، تاہم بدلتی علاقائی صورتحال اس پالیسی کے مستقبل پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔

Read Comments