وائٹ ہاؤس کی شاہانہ تزئین و آرائش، ٹرمپ پر طنز کے لیے سنہری ٹوائلٹ نصب

اس انوکھے احتجاج اور طنز پر وائٹ ہاؤس نے اپنا ردِعمل بھی جاری کر دیا ہے۔
شائع 31 مارچ 2026 11:29am

واشنگٹن کے ’نیشنل مال‘ پر حال ہی میں ایک ’گولڈن ٹوائلٹ‘ نصب کیا گیا ہے، جس کا مقصد صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے وائٹ ہاؤس میں جاری مہنگی تزئین و آرائش کے منصوبوں پر طنز کرنا ہے۔

سنگِ مرمر اور سونے کی وضع میں ڈھلے اس شاہی تخت میں نشست کی جگہ ایک ’سنہرا ٹوائلٹ‘ نصب کیا گیا ہے، جس پر لگی ایک تختی اسے ”ایک بادشاہ کے لیے موزوں تخت“ قرار دیتی ہے۔

اس طنزیہ فن پارے میں ایک ٹوائلٹ پیپر رول بھی شامل ہے جس پر ”دی سیکرٹ ہینڈ شیک“ لکھا ہوا ہے۔ امریکی میڈیا کے مطابق اسی نام کے ایک گروپ نے اس سے پہلے بھی ایک متنازعہ مجسمہ بنایا تھا جس میں ٹرمپ کو مرحوم سرمایہ کار جیفری ایپسٹین کے ساتھ دکھایا گیا تھا۔ تاہم اس نئے مجسمے کے حوالے سے اس گروپ سے فوری طور پر رابطہ نہیں ہو سکا۔

یہ تنصیب ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکہ میں سیاسی تقسیم اور معاشی مسائل پر بحث جاری ہے، مگر اس فن پارے کے ذریعے یہ پیغام دینے کی کوشش کی گئی ہے کہ صدر کی ترجیحات عوامی مسائل کے بجائے وائٹ ہاؤس کے باتھ رومز کو سنوارنے تک محدود ہیں۔

اس مجسمے پر درج عبارت میں طنزیہ انداز اختیار کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بے مثال ملکی تقسیم اور معاشی بحران کے دور میں صدر ٹرمپ نے ان امور پر توجہ مرکوز کی جو ان کے نزدیک واقعی اہمیت رکھتے تھے، جیسے کہ وائٹ ہاؤس کے ’لنکن باتھ روم‘ کی تزئین و آرائش۔

یہ فن پارہ دراصل ایک ایسے وژنری کو خراجِ تحسین پیش کرنے کا ڈھونگ رچاتا ہے جس نے ہر مسئلے کا حل صرف اسے ’سنہرا‘ کر دینے میں تلاش کیا۔

واضح رہے کہ گزشتہ برس دوبارہ اقتدار سنبھالنے کے بعد سے صدر ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس اور واشنگٹن میں بڑے پیمانے پر تعمیراتی تبدیلیاں شروع کر رکھی ہیں، جن میں اوول آفس میں سونے کی ملمع کاری اور ایسٹ ونگ کو گرا کر وہاں ایک وسیع بال روم کی تعمیر شامل ہے۔

اس انوکھے احتجاجی فن پارے نے امریکی دارالحکومت میں بحث کا ایک نیا دروازہ کھول دیا ہے، جس پر وائٹ ہاؤس نے بھی اپنا ردِعمل جاری کر دیا ہے۔

وائٹ ہاؤس کے ترجمان ڈیوس انگل نے اس حوالے سے کہا ہے کہ صدر ٹرمپ وائٹ ہاؤس اور پورے دارالحکومت کو پہلے سے زیادہ خوبصورت بنانے کے لیے کام کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ صدر عوام سے کیے گئے وعدے پورے کرنے کے لیے مسلسل کام کرتے رہیں گے۔

اس دوران ’نیشنل پارک سروس‘ نے فی الحال اس احتجاجی مجسمے پر کوئی باضابطہ تبصرہ نہیں کیا ہے۔

Read Comments