ایران جنگ کے خاتمے کی امید پر سونا مہنگا، پاکستان میں آج فی تولہ قیمت کتنی اوپر جانے کا امکان ہے؟
عالمی منڈی میں سونے کی قیمتوں میں بدھ کے روز ایک بار پھر اضافہ دیکھا گیا ہے، جس کے بعد سونے کی قیمتیں گزشتہ دو ہفتوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں۔
برطانوی خبر رساں ایجنسی ’رائٹرز‘ کے مطابق، اس اضافے کی بڑی وجہ امریکی ڈالر کی قدر میں معمولی کمی اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا وہ بیان ہے جس میں انہوں نے اشارہ دیا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری جنگ اگلے دو سے تین ہفتوں میں ختم ہو سکتی ہے۔
عالمی مارکیٹ میں فی اونس سونے کی قیمت تقریباً 0.4 فیصد اضافے کے ساتھ 4685 ڈالر تک پہنچ گئی ہے، جبکہ دن کے آغاز میں یہ 4723 ڈالر کی سطح کو بھی چھو چکی تھی۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ کے اس بیان نے کہ ”امریکا جنگ ختم کرنے کے لیے کسی پیشگی معاہدے کا محتاج نہیں ہے“، عالمی حصص بازاروں میں نئی جان ڈال دی ہے اور اسی لہر کے ساتھ سونے کی قیمتوں کو بھی سہارا ملا ہے۔
عام طور پر جب ڈالر سستا ہوتا ہے تو سونا خریدنا دیگر کرنسیوں کے حامل افراد کے لیے آسان ہو جاتا ہے جس سے اس کی طلب اور قیمت بڑھ جاتی ہے۔
تاہم ماہرین نے خبردار بھی کیا ہے کہ اگر مہنگائی بڑھنے کے خدشات پیدا ہوئے اور شرح سود میں اضافہ ہوا تو سونے کی قیمتوں میں اضافے کی یہ رفتار سست بھی ہو سکتی ہے۔
گزشتہ ماہ یعنی مارچ میں عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمتوں میں 11 فیصد سے زائد کی بڑی گراوٹ دیکھی گئی تھی جو کہ 2008 کے بعد ایک ماہ میں ہونے والی سب سے بڑی کمی تھی۔
اس کی وجہ یہ تھی کہ جنگ شروع ہونے کے بعد ڈالر کو ایک محفوظ سرمایہ کاری سمجھا جا رہا تھا اور امریکی مرکزی بینک کی جانب سے شرح سود میں کمی کے امکانات بھی ختم ہو گئے تھے۔
اب اگر مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کم ہوتی ہے اور جنگ بندی کے آثار نمایاں ہوتے ہیں تو عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمتوں میں استحکام یا مزید بہتری کی توقع کی جا سکتی ہے۔
پاکستانی مارکیٹ کے حوالے سے اگر موجودہ عالمی قیمت 4685 ڈالر فی اونس اور ڈالر کی ممکنہ شرح تبادلہ کو مدنظر رکھا جائے تو پاکستان میں سونے کی قیمتوں میں بڑے اضافے کا امکان ہے۔
عالمی سطح پر سونے کی فی اونس قیمت میں حالیہ تیزی اور روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قدر کو دیکھتے ہوئے یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ پاکستان میں فی تولہ سونے کی قیمت 5 لاکھ 20 ہزار سے 5 لاکھ 35 ہزار روپے کے درمیان رہ سکتی ہے۔
تاہم حتمی قیمت کا انحصار مقامی مارکیٹ میں ڈالر کی دستیابی اور جنگ سے متعلق آنے والی مزید خبروں پر ہوگا۔
اونس اور تولہ میں فرق
سونے کے وزن کی ان دونوں اکائیوں کے فرق کو سمجھنا بہت آسان ہے۔
تولہ دراصل ایک مقامی پیمانہ ہے جو پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش میں زیورات کی خرید و فروخت کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ ایک تولہ میں 11.66 گرام وزن ہوتا ہے۔
اس کے برعکس اونس (جسے عالمی مارکیٹ میں ٹرائے اونس کہا جاتا ہے) ایک بین الاقوامی معیار ہے اور اس کا ایک اونس 31.10 گرام کے برابر ہوتا ہے۔
یعنی اونس وزن کے لحاظ سے تولہ سے ڈھائی گنا زیادہ ہوتا ہے۔
اگر ہم ان دونوں کا آپس میں موازنہ کریں تو ایک اونس میں تقریباً 2.66 تولے ہوتے ہیں، جس کا مطلب یہ ہے کہ ایک اونس سونے کا وزن دو تولے سے تو زیادہ ہے لیکن یہ پونے تین تولے سے تھوڑا کم بنتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ جب بین الاقوامی منڈیوں یعنی لندن یا نیویارک میں سونے کی قیمت بتائی جاتی ہے تو وہ ہمیشہ فی اونس کے حساب سے ہوتی ہے، جبکہ ہمارے ہاں صرافہ بازار میں اسے مقامی گاہکوں کی سہولت کے لیے تولہ میں تبدیل کر کے بتایا جاتا ہے۔