ایران امریکا مذاکرات: امریکی نائب صدر جے ڈی وینس پاکستان کیلئے روانہ
ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی کے بعد باقاعدہ مذاکرات پاکستان کی میزبانی میں دارالحکومت اسلام آباد میں ہونے جارہے ہیں، جہاں اس وقت سیکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات ہیں۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا طیارہ پاکستان کے لیے اڑان بھر چکا ہے۔
اسلام آباد روانگی سے قبل واشنگٹن میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے جے ڈی وینس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے انہیں ایران سے مذاکرات کیلئے ہدایات دی ہیں۔ وہ توقع کرتے ہیں کہ یہ مذاکرات تعمیری اور معنی خیز ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ پہلے ہی واضح کر چکے ہیں کہ اگر ایران نیک نیتی کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار ہے تو امریکا بھی کھلے دل کے ساتھ آگے بڑھے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر ایران نے اس صورت حال سے ناجائز فائدہ اٹھانے کی کوشش کی تو امریکی وفد کسی قسم کی لچک کا مظاہرہ نہیں کرے گا اور ایسا رویہ قطعی طور پر قابلِ قبول نہیں ہوگا۔
ان کا کہنا تھا کہ امریکا سنجیدہ اور بامقصد مذاکرات چاہتا ہے، جس کے لیے دونوں جانب سے دیانتدارانہ رویہ اپنانا ضروری ہے۔
ایران-امریکا مذاکرات عالمی سطح پر اس لیے بھی اہم ہیں کیوں کہ دنیا بھر کے ممالک ’آبنائے ہرمز‘ کی بحالی کے خواہاں ہیں، جہاں جنگ سے قبل عالمی تیل کی تقریباً 20 فیصد ترسیل ہوتی تھی۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق جمعے کی صبح ایک امریکی فوجی ٹرانسپورٹ طیارہ راولپنڈی کے نور خان ایئربیس پر لینڈ ہوا تھا جس کے عقبی حصے پر ’چارلسٹن‘ لکھا دیکھا گیا۔ تفصیلات کے مطابق یہ طیارہ عام طور پر گاڑیوں، سازوسامان اور اہلکاروں کی ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقلی میں استعمال کیا جاتا ہے۔
امریکی اور ایرانی مذاکراتی وفود کی آج اسلام آباد آمد متوقع ہے تاہم پاکستانی حکام نے واضح کیا ہے کہ آخری وقت تک وفود کی آمد اور حتمی فہرست میں تبدیلی کا امکان موجود ہے۔
ایران کے ساتھ مذاکرات کے لیے پاکستان آنے والے امریکی وفد کی قیادت نائب صدر جے ڈی وینس کریں گے۔ ان کے ساتھ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے کے داماد جیرڈ کشنر اور خصوصی نمائندے اسٹیو وٹکوف بھی شامل ہوں گے۔
دوسری جانب ایران کی نمائندگی کے لیے ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف اور وزیر خارجہ عباس عراقچی کی قیادت میں وفد شریک ہوگا۔ دونوں ملکوں کے وفود پاکستان کی میزبانی میں ممکنہ امن معاہدے کی پر اتفاق رائے کی کوشش کریں گے۔
امریکی اخبار ’واشنگٹن پوسٹ‘ نے ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ امریکی وفد ایران کے ساتھ ہونے والے مذاکرات میں زیرِ حراست امریکی شہریوں کی رہائی کے مطالبہ کو بھی شامل کیا جائے گا، تاہم اگر اس نکتے پر اتفاق نہ ہوسکا تو فی الحال امریکیوں کی رہائی کے مطالبے کو مؤخر کیا جا سکتا ہے۔
اس اہم ترین سفارتی بیٹھک کے پیشِ نظر اسلام آباد میں حفاظتی اقدامات کے تحت ریڈ زون کو سیل کر دیا گیا ہے جبکہ شہر کے اہم داخلی راستے بھی بند ہیں۔ وفاقی دارالحکومت میں دو روز کی تعطیلات کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔
پاکستان نے اعلان کیا ہے کہ امریکا ایران مذاکرات میں شرکت کے لیے اسلام آباد آنے والے وفود کو ’آن ارائیول‘ ویزہ فراہم کیا جائے گا اور مذاکرات کی کوریج کے لیے آنے والے صحافیوں کو بھی یہ سہولت میسر ہوگی۔
تاہم ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی نے واضح کیا ہے کہ یہ سہولت صرف فریق ممالک، ایران اور امریکا کے مندوبین اور صحافیوں کے لیے ہی ہے۔
طاہر اندرابی کے مطابق یہ خصوصی سہولت صرف مذاکرات کے دورانیے تک محدود ہوگی اور اس کا اطلاق تیسرے ممالک کے شہریوں پر نہیں ہوگا۔
پاکستان کی میزبانی میں ہونے والے اس ہائی مذاکرات کا بنیادی مقصد امریکا اور ایران کے درمیان جاری جنگ کو روکنے اور مستقل امن کی طرف پیش رفت ہے۔ ایران کی جانب سے پیش کیے گئے 10 نکاتی امن منصوبے میں آبنائے ہرمز پر نگرانی، امریکی افواج کے انخلا اور خطے میں فوجی کارروائیوں میں کمی جیسے مطالبات شامل ہیں۔
دوسری جانب امریکا نے ان تمام نکات کو مکمل طور پر قبول نہیں کیا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس منصوبے کو “قابلِ عمل” قرار دیا ہے، جبکہ واشنگٹن کا مؤقف ہے کہ ایران کو افزودہ یورینیم کا ذخیرہ محدود یا ختم کرنا ہوگا۔
پاکستان اس عمل میں ایک اہم ثالث کے طور پر سامنے آیا ہے کیونکہ اس کے ایران اور امریکا دونوں سے سفارتی تعلقات موجود ہیں، جبکہ ایران کے ساتھ اس کی طویل زمینی سرحد بھی ہے۔
تاہم ماہرین کے مطابق مذاکرات سے قبل دونوں ملکوں کی جانب سے ممکنہ معاہدے کی تجاویز پر اعتماد کی شدید کمی موجود ہے۔ امریکا اور ایران کی جانب سے ایک دوسرے پر الزامات کا سلسلہ جاری ہے جب کہ خطے میں اسرائیل کے حملے مذاکرات کو مزید پیچیدہ بنا رہے ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ لبنان میں اسرائیل کی جارحیت مذاکرات کے عمل میں تنازع بن سکتی ہے، کیونکہ ایران فوری طور پر اسرائیلی حملوں کے خاتمے کا مطالبہ کر رہا ہے جبکہ امریکا اس معاملے کو مذاکراتی دائرہ کار سے باہر قرار دے رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر فریقین کے درمیان مستقل امن کے لیے بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق کی صورت میں یہ ایک بڑی سیاسی پیش رفت کا آغاز ہوگا۔ بعض تجزیہ کاروں کے مطابق مذاکرات کے آغاز میں سب سے اہم مرحلہ اعتماد سازی ہے کیوں کہ مذاکرات کی کامیابی یا ناکامی نہ صرف امریکا اور ایران بلکہ پورے مشرق وسطیٰ کی سیاسی اور معاشی صورت حال پر گہرے اثرات مرتب کرے گی۔