ایران امریکا مذاکرات: اسلام آباد میں تیاریاں مکمل، سیکیورٹی کے سخت انتظامات
امریکی اور ایرانی اعلیٰ حکام آج اسلام آباد میں ہونے والے اہم مذاکرات کے لیے پہنچ رہے ہیں، جہاں پاکستان کی میزبانی میں دونوں ممالک ایک ممکنہ امن معاہدے کی جانب پیش رفت کی کوشش کریں گے۔ تاہم خطے میں جاری کشیدگی، باہمی عدم اعتماد اور اسرائیل کے حملوں نے ان مذاکرات کو انتہائی حساس بنا دیا ہے۔
امریکی انتظامیہ کے مطابق مذاکرات میں امریکی وفد کی قیادت نائب صدر جے ڈی وینس کریں گے۔ ان کے ساتھ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی نمائندے اسٹیو وٹکوف اور ان کے داماد جیرڈ کشنر بھی شامل ہوں گے۔
دوسری جانب ایران کی نمائندگی کے لیے ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف اور وزیر خارجہ عباس عراقچی کی قیادت میں وفد شریک ہوگا۔ تاہم ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے کسی سینئر نمائندے کی شرکت کی تصدیق نہیں ہو سکی۔
پاکستانی حکام کے مطابق آخری وقت تک وفود کی آمد اور حتمی فہرست میں تبدیلی کا امکان موجود ہے۔
یہ مذاکرات اسلام آباد کے معروف سرینا ہوٹل میں ہوں گے، جو ریڈ زون کے قریب واقع ہے۔ سیکیورٹی خدشات کے باعث ہوٹل کو پہلے ہی خالی کرا لیا گیا ہے اور علاقے میں سخت حفاظتی اقدامات کیے گئے ہیں۔
اسلام آباد میں ریڈ زون کو سیل کر دیا گیا ہے جبکہ شہر کے اہم داخلی راستے بھی بند ہیں۔ وفاقی دارالحکومت میں دو روز کی تعطیلات کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔
مذاکرات کا بنیادی مقصد امریکا اور ایران کے درمیان جاری جنگ کو روکنے اور مستقل امن کی طرف پیش رفت ہے۔ ایران کی جانب سے پیش کیے گئے 10 نکاتی امن منصوبے میں آبنائے ہرمز پر نگرانی، امریکی افواج کے انخلا اور خطے میں فوجی کارروائیوں میں کمی جیسے مطالبات شامل ہیں۔
دوسری جانب امریکا نے ان تمام نکات کو مکمل طور پر قبول نہیں کیا۔ تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس منصوبے کو “قابلِ عمل” قرار دیا ہے، جبکہ واشنگٹن کا مؤقف ہے کہ ایران کو افزودہ یورینیم کا ذخیرہ محدود یا ختم کرنا ہوگا۔
مزید اختلاف لبنان کے معاملے پر بھی سامنے آیا ہے، جہاں اسرائیل کی بمباری کے باعث صورتحال مزید کشیدہ ہو چکی ہے۔
پاکستان کے وزیراعظم شبہازشریف نے دونوں فریقین کو مذاکرات کی دعوت دی ہے۔ پاکستانی وزیر خارجہ اسحاق ڈار ثالثی کے فرائض انجام دیں گے، جبکہ وفود کے درمیان پیغامات کی ترسیل بھی پاکستان کے ذریعے ہوگی۔
پاکستان اس عمل میں ایک اہم ثالث کے طور پر سامنے آیا ہے کیونکہ اس کے ایران اور امریکا دونوں سے سفارتی تعلقات موجود ہیں، جبکہ ایران کے ساتھ اس کی طویل زمینی سرحد بھی ہے۔
ماہرین کے مطابق مذاکرات سے قبل ہی اعتماد کی شدید کمی موجود ہے۔ امریکا اور ایران دونوں ایک دوسرے پر الزام عائد کر رہے ہیں، جبکہ خطے میں اسرائیل کی عسکری کارروائیاں مذاکرات کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ لبنان کا مسئلہ اس عمل کا سب سے بڑا تنازع بن سکتا ہے، کیونکہ ایران فوری طور پر اسرائیلی حملوں کے خاتمے کا مطالبہ کر رہا ہے، جبکہ امریکا اس معاملے کو مذاکراتی دائرہ کار سے باہر قرار دے رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق فوری اور مکمل معاہدہ ممکن نظر نہیں آتا، تاہم اگر فریقین بات چیت جاری رکھتے ہیں تو یہ ایک بڑے سیاسی پیش رفت کا آغاز ہو سکتا ہے۔ بعض تجزیہ کاروں کے مطابق ابتدائی مرحلے میں اعتماد سازی سب سے اہم مرحلہ ہوگا۔
مذاکرات کی کامیابی یا ناکامی نہ صرف امریکا اور ایران بلکہ پورے مشرق وسطیٰ کی سیاسی اور معاشی صورتحال پر گہرے اثرات ڈال سکتی ہے۔













