امریکی میڈیا میں ایرانی مذاکرات کاروں کو دھمکیاں دی جا رہی ہیں: اسماعیل بقائی

ریاستی دہشت گردی کے لیے عوامی سطح پر اکسانے کی ہر سطح پر مذمت ہونی چاہیے، ترجمان ایرانی وزارتِ خارجہ
شائع 11 اپريل 2026 11:47pm

ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ امریکی میڈیا اور بعض حلقوں کی جانب سے مذاکرات ناکام ہونے کی صورت میں ایرانی وفد کو دھمکیاں دی جا رہی ہیں، جس سے سفارتی عمل متاثر ہو سکتا ہے۔ دریں اثنا اسرائیلی وزیراعظم نے بھی دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی قیادت میں اسرائیل ایران اور اس کے اتحادیوں کے خلاف اپنی کارروائیاں جاری رکھے گا۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ امریکی میڈیا کے ذریعے مذاکرات ناکام ہونے کی صورت میں ایرانی مذاکراتی وفد کو دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری بیان میں انہوں نے کہا کہ امریکی حکام ایران پر نیک نیتی کی کمی اور بھتہ خوری جیسے الزامات عائد کرتے ہیں، اسی دوران امریکی میڈیا میں ایسے بیانات بھی سامنے آ رہے ہیں جن میں مذاکرات ناکام ہونے کی صورت میں ایرانی وفد کے خلاف دھمکیوں کی بات کی جا رہی ہے۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا اس نوعیت کے بیانات دھمکی، تشدد پر اکسانے اور بھتہ خوری کو معمول بنانے کے مترادف نہیں ہیں۔ ایرانی ترجمان نے کہا کہ ریاستی دہشت گردی کے لیے عوامی سطح پر اکسانے کی ہر سطح پر مذمت ہونی چاہیے۔

اسماعیل بقائی نے اپنے بیان کے ساتھ ایک امریکی اخبار کا اسکرین شاٹ بھی شیئر کیا، جس میں لکھا گیا ہے کہ ایرانی قیادت کو سمجھنا چاہیے کہ ان کی سلامتی کا انحصار کسی ممکنہ معاہدے پر ہے۔

قبل ازیں اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر جاری بیان میں کہا کہ میری قیادت میں اسرائیل ایران اوراس کے اتحادیوں کے خلاف لڑائی جاری رکھے گا۔

قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں ترکی کے صدر رجب طیب اردوان پر بھی سخت تنقید کی اور الزام عائد کیا کہ وہ ایران کے ساتھ تعاون کر رہے ہیں اور کرد شہریوں کے خلاف کارروائیوں کے ذمہ دار ہیں۔

یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان اسلام آباد میں پاکستان کی ثالثی میں مذاکرات جاری ہیں۔ دونوں ملک ایک دہائی بعد آمنے سامنے بیٹھ کر اپنے اپنے مؤقف کو واضح کرنے اور ممکنہ مشترکہ نکات تلاش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

واضح رہے کہ نیتن یاہو پر غزہ میں جنگی جرائم کے الزامات کے تحت عالمی فوجداری عدالت میں مقدمہ بھی زیر سماعت ہے، اس کے باوجود اسرائیلی قیادت کا مؤقف سخت اور جارحانہ ہے۔

Read Comments