پاکستان کی ثالثی میں امریکا اور ایران کے درمیان رُو برو مذاکرات دوسرے روز میں داخل

ایران اور امریکا کے درمیان ہفتے کی سہ پہر شروع ہونے مذاکرات تاحال جاری ہیں۔ جناح کنونشن سینٹر اِس وقت دنیا بھر سے آئے صحافیوں کا مرکز بنا ہوا ہے۔
اپ ڈیٹ 12 اپريل 2026 01:39am

امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کے مستقل خاتمے کے لیے براہِ راست مذاکرات اسلام آباد کے سرینا ہوٹل میں جاری ہیں۔ پاکستان کی ثالثی میں دونوں ممالک کے وفود ایک دہائی کے طویل وقفے کے بعد آمنے سامنے بیٹھ کر امن کے امکانات پر بات چیت کر رہے ہیں۔

اسلام آباد میں ہفتے کی سہ پہر شروع ہونے والے یہ مذاکرات کئی گھنٹوں سے جاری ہیں۔ ایرانی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی ’تسنیم‘ کے مطابق مذاکرات کا پہلا مرحلہ مکمل ہوا، جس کے بعد مذاکرات دوسرے مرحلے یعنی ’ایکسپرٹ لیول اسٹیج‘ میں داخل ہوئے۔

دوسرے مرحلے میں ’ایکسپرٹ لیول اسٹیج‘ (ماہرین کی سطح) پر بات چیت ہوئی جس میں دونوں جانب سے معاشی، عسکری، قانونی اور جوہری امور پر خصوصی کمیٹیوں نے آپس میں ملاقاتیں کیں اور زیرِ بحث آنے والے امور پر تحریری مسودوں کا تبادلہ کیا۔

رپورٹ کے مطابق اِس وقت ’آبنائے ہرمز‘ کا معاملہ فریقین کے درمیان بنیادی اختلافی نکتہ بنا ہوا ہے اور اس پر تاحال کوئی متفقہ نتیجہ سامنے نہیں آ سکا۔ ایرانی مذاکراتی ٹیم کے قریبی ذرائع کے مطابق مذاکرات کا تیسرا دور آج رات یا کل منعقد ہونے کا امکان ہے۔

امریکی نیوز ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق وائٹ ہاؤس کے ایک سینئر اہلکار نے رات ساڑھے 10 بجے صحافیوں کو بتایا کہ اس وقت بھی فریقین کے درمیان باضابطہ بات چیت جاری ہے۔

ابتدائی طور پر مذاکرات کی نوعیت پر ابہام تھا کہ آیا یہ عمل ثالثوں کے ذریعے ہوگا یا فریقین آمنے سامنے بیٹھیں گے، تاہم پاکستان کے سرکاری ٹی وی (پی ٹی وی) اور ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی (اِرنا) نے براہِ راست مذاکرات کی تصدیق کی۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز نے شام کے وقت ذرائع کے حوالے سے بتایا تھا کہ فریقین کے درمیان ابتدائی اہم ترین ملاقات میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس، خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور صدر ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر نے ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف اور وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ملاقات کی۔

رائٹرز نے ایک ذریعے کے حوالے سے یہ بھی رپورٹ کیا کہ ملاقات کے دوران فریقین کے درمیان ’موڈ سوئنگز‘ دیکھے گئے اور ماحول کبھی سخت اور کبھی نسبتاً نرم ہوتا رہا۔ یہ مذاکرات تقریباً دو گھنٹے تک جاری رہے، جس کے بعد مختصر وقفہ لیا گیا تھا۔

رپورٹ کے مطابق اس اہم ترین ملاقات میں پاکستان کے چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر بھی موجود تھے۔

اسلام آباد میں امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والے مذاکرات کو 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات میں سب سے اہم سفارتی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

اس سے قبل 2015 میں سابق امریکی صدر باراک اوباما کے دور میں ایران کے جوہری پروگرام پر ایک تاریخی معاہدہ طے پایا تھا۔ یہ پہلا موقع تھا جب ان دونوں ممالک کے نمائندے براہِ راست آمنے سامنے بیٹھے تھے۔ تاہم اس معاہدے کو 2018 میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یکطرفہ طور پر ختم کرنے کے بعد ایران پر دوبارہ سخت پابندیاں عائد کر دی تھیں۔

جوہری معاہدے کے خاتمے کے بعد ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے امریکا کے ساتھ براہِ راست مذاکرات پر پابندی عائد کر دی تھی، جس سے دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست سفارتی تعلقات محدود ہوگئے تھے۔

امریکا اور ایران کے درمیان اسلام آباد میں جاری مذاکرات کی کوریج کے لیے کئی ملکوں کے صحافی اور مندوبین جناح کنونشن سینٹر میں موجود ہیں۔ اس اہم ترین معاملے کی حساسیت کو دیکھتے ہوئے وفاقی وزارتِ اطلاعات صحافیوں کو براہِ راست رسائی دینے کے بجائے مذاکرات کی پیش رفت سے وقتاً فوقتاً آگاہ کر رہا ہے۔

اسلام آباد مذاکرات سے قبل عمان کی ثالثی میں بھی ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کے کئی دور ہوئے تھے۔ پہلا دور اپریل 2025 میں مسقط میں ہوا، جس میں امریکا کی جانب سے اسٹیو وٹکوف جب کہ ایران کی جانب سے عباس عراقچی شریک ہوئے تھے۔

فریقین کے درمیان فروری 2026 کے وسط میں بھی عمان کی ثالثی میں جنیوا میں بالواسطہ مذاکرات ہوئے تھے جس میں شرکاء نے جوہری پروگرام سے متعلق بنیادی اصولوں پر کسی حد تک اتفاق کیا تھا۔ تاہم 28 فروری کو جنیوا مذاکرات کی ناکامی کے بعد امریکا اور اسرائیل نے مشترکہ طور پر ایران پر حملہ کردیا تھا۔

ایران نے حملوں کے بعد فوری طور پر آبنائے ہرمز کو بند کیا اور اسرائیل سمیت خطے میں موجود امریکی تنصیبات کو نشانہ بنایا تھا۔ مشرقِ وسطیٰ میں 40 روز تک یہ جنگ جاری رہی۔

اس دوران پاکستان نے سفارتی کوششوں سے پہلے فریقین کو دو ہفتوں کی جنگ بندی پر آمادہ کیا اور دونوں کے درمیان براہِ راست مذاکرات کے لیے اسلام آباد میں بیٹھک سجائی۔