ایران سے معاہدے کے لیے ٹرمپ کی شرط: پاکستان کا اسرائیل کو تسلیم کرنے کا مطالبہ ماننے سے صاف انکار
پاکستان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران معاہدے کے لیے اسرائیل کو تسلیم کرنے کی شرط ماننے سے صاف انکار کردیا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کے روز ایک بڑا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے پاکستان، سعودی عرب، قطر، ترکیہ، مصر اور اردن جیسے اہم مسلم ممالک سے اجتماعی طور پر ابراہم اکارڈز یعنی ’ابراہم معاہدے‘ میں شامل ہونے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو بحال کیا جا سکے۔
تاہم، پاکستان کے انگریزی اخبار بزنس ریکارڈر کے مطابق، پاکستان نے امریکی صدر کی اس تجویز کو فوری طور پر مسترد کر دیا ہے، جبکہ دیگر مسلم ممالک کی جانب سے اب تک اس مطالبے پر کوئی عوامی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔
واضح رہے کہ غزہ میں جاری اسرائیلی فوجی کارروائیوں کی وجہ سے مسلم ممالک کے عوام میں اسرائیل کے خلاف شدید غصہ پایا جاتا ہے، جس کی وجہ سے ان ممالک کی طرف سے کسی مثبت جواب کی امید بہت کم ہے۔
امریکی صدر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر جاری ایک بیان میں بتایا کہ انہوں نے ہفتے کے روز ان تمام ممالک کے رہنماؤں کے ساتھ ساتھ متحدہ عرب امارات اور بحرین کے حکام سے بھی بات چیت کی ہے، جو پہلے ہی اس معاہدے پر دستخط کر کے اسرائیل کو تسلیم کر چکے ہیں۔
صدر ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں لکھا کہ میں لازمی طور پر یہ درخواست کر رہا ہوں کہ تمام ممالک فوری طور پر ابراہم معاہدے پر دستخط کریں، اور اگر ایران میرے ساتھ بطور امریکی صدر معاہدے پر دستخط کرتا ہے، تو انہیں بھی دنیا کے اس بے مثال اتحاد کا حصہ بنتے دیکھنا میرے لیے اعزاز کی بات ہوگی۔
انہوں نے اس سارے عمل کو ایک الجھی ہوئی پہیلی قرار دیتے ہوئے مزید لکھا کہ امریکا نے اس انتہائی پیچیدہ پہیلی کے ٹکڑوں کو ایک جگہ جوڑنے کے لیے بہت کام کیا ہے۔

بزنس ریکارڈر کے مطابق، اس معاملے سے واقف ایک پاکستانی سرکاری ذرائع نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ صدر ٹرمپ کا یہ بیان دراصل ایران میں جنگ بندی کے لیے جاری سفارت کاری کو ابراہم معاہدے کے پھیلاؤ کے لیے استعمال کرنے کی ایک کوشش ہے۔
پاکستانی ذریعے نے واضح موقف اپناتے ہوئے کہا کہ ایران کا معاملہ اور اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی بحالی دو الگ الگ باتیں ہیں، یہ دونوں معاملات آپس میں جڑے ہوئے نہیں ہیں اور نہ ہی انہیں زبردستی ایک دوسرے سے جوڑا جا سکتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان پر اس قسم کے کسی بھی مطالبے کو ماننے کے لیے نہ تو کوئی دباؤ ہے اور نہ ہی پاکستان ایسا کرنے کے لیے مجبور ہوگا۔
دوسری طرف، اسرائیل کے وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو کے دفتر نے بھی صدر ٹرمپ کے اس بیان پر فوری طور پر کوئی تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے۔
امریکی صدر کا خیال ہے کہ جن ممالک سے انہوں نے بات کی ہے، ان میں سے شاید ایک یا دو کے پاس اس معاہدے میں شامل نہ ہونے کی کوئی خاص وجہ ہو سکتی ہے، لیکن ان کا کہنا تھا کہ زیادہ تر ممالک کو تیار اور اس قابل ہونا چاہیے کہ وہ ایران کے ساتھ ہونے والے اس سمجھوتے کو تاریخی واقعہ بنائیں۔
خیال رہے کہ مسلم دنیا کے لیے یہ معاملہ انتہائی حساس نوعیت کا ہے، خصوصاً سعودی عرب کے لیے جو اسلام کا گہوارہ اور مکہ اور مدینہ جیسے مقدس ترین مقامات کا امین ہے۔ سعودی عرب کے لیے اسرائیل کو تسلیم کرنا محض ایک سفارتی فیصلہ نہیں بلکہ قومی سلامتی اور خطے کے سب سے پرانے تنازع کے حل سے جڑا ہوا معاملہ ہے۔
سعودی عرب کا ہمیشہ سے یہ واضح موقف رہا ہے کہ جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کا کوئی واضح راستہ سامنے نہیں آتا، وہ اس معاہدے پر دستخط نہیں کرے گا۔
دوسری طرف، مصر، اردن اور ترکیہ کے اسرائیل کے ساتھ پہلے سے سفارتی تعلقات موجود ہیں، اگرچہ غزہ جنگ شروع ہونے کے بعد سے ان کے تعلقات میں شدید تناؤ آ چکا ہے۔
صدر ٹرمپ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ایران کے ساتھ ان کے مذاکرات بہت اچھے انداز میں آگے بڑھ رہے ہیں، تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ معاہدہ کب تک ممکن ہے۔
ٹرمپ کے پرانے اتحادی امریکی سینیٹر لنڈسے گراہم نے ایران کے معاہدے کو ابراہم معاہدے سے جوڑنے کے خیال کی بھرپور حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ قدم خطے اور پوری دنیا کو بدل کر رکھ دے گا اور معاشی ترقی کا ایک بڑا مرکز بنے گا۔
تاہم، کچھ ماہرین اس حکمت عملی کو صرف ایک سیاسی چال کے طور پر دیکھ رہے ہیں تاکہ ایران کے ساتھ ہونے والے کسی بھی ممکنہ معاہدے کو امریکی ناقدین کے لیے قابلِ قبول بنایا جا سکے۔
انٹرنیشنل کرائسز گروپ میں ایران پروجیکٹ کے ڈائریکٹر علی واعظ نے اس صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ ایران کے ساتھ معاہدے کو ابراہم معاہدے کے ایک اگلے حصے کے طور پر بیچنے کی کوشش کر رہے ہیں، جو اسرائیل اور خطے کے لیے اچھا ہو اور واشنگٹن کے لیے بھی مضبوط دکھائی دے۔
لیکن علی واعظ کے مطابق، ٹرمپ ایک نئی خیالی دنیا کی جگہ دوسری خیالی دنیا سجا رہے ہیں، پہلے وہ ایران کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور کر رہے تھے اور اب وہ یہ ظاہر کر رہے ہیں کہ ایک کمزور سا معاہدہ مشرقِ وسطیٰ کا نیا نظام طے کر سکتا ہے۔
واضح رہے کہ صدر ٹرمپ اپنے پہلے دورِ صدارت میں سنہ 2020 کے دوران متحدہ عرب امارات اور بحرین کے درمیان یہ معاہدہ کرانے میں کامیاب رہے تھے، جس کے بعد مراکش اور سوڈان نے بھی اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم کر لیے تھے۔













