اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو اسپتال منتقل: عبرانی میڈیا کا دعویٰ
اسرائیل کے وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو کو پیر کی شام یروشلم کے ہداسا این کیریم میڈیکل سینٹر منتقل کیا گیا ہے جہاں ان کا علاج جاری ہے۔
عبرانی زبان کے مقامی میڈیا پر وزیرِ اعظم کی اسپتال منتقلی کی خبریں نشر ہونے کے بعد وزیرِ اعظم کے دفتر نے باقاعدہ بیان جاری کرتے ہوئے تصدیق کی کہ نیتن یاہو اسپتال میں موجود ہیں اور وہاں ان کے دانتوں کا ایک ایسا علاج کیا جا رہا ہے جس کی تفصیلات فی الحال نہیں بتائی جا سکتیں۔
چوہتر سالہ اسرائیلی وزیرِ اعظم کی صحت کا معاملہ حالیہ دنوں میں عوام اور میڈیا کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے کیونکہ ماضی میں ان کی بیماریوں کی معلومات کو عوام سے چھپانے پر حکومت کو سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑا ہے اور اس وجہ سے ملک کے اندر ان کی مجموعی صحت کے بارے میں طرح طرح کی افواہیں جنم لے رہی ہیں۔
گزشتہ ماہ ہی بنجمن نیتن یاہو نے سوشل میڈیا پر ایک تفصیلی پیغام شیئر کرتے ہوئے پہلی بار یہ انکشاف کیا تھا کہ وہ اسی ہداسا اسپتال میں غدود کے کینسر یعنی پروسٹیٹ کے رسولی کا کامیاب علاج کروا چکے ہیں۔
انہوں نے اس معلومات کو عوام سے چھپانے کا دفاع کرتے ہوئے اپنے بیان میں لکھا کہ میں نے یہ معلومات عوام کو دینے سے گریز کیا کیونکہ میرا خیال تھا کہ ایران حالیہ جنگ کے دوران اسرائیل کے خلاف پروپیگنڈا پھیلانے کے لیے اس معلومات کا غلط استعمال کر سکتا ہے۔
نیتن یاہو نے اس وقت یہ تو تسلیم کیا کہ ان کی تابکاری یعنی ریڈی ایشن کے ذریعے تھراپی کی گئی ہے لیکن انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ انہیں کینسر کی تشخیص کب ہوئی، ان کا علاج کب شروع ہوا اور یہ کب ختم ہوا۔
اس اعلان کے ساتھ ہی وزیرِ اعظم کے دفتر نے ان کی سالانہ صحت کی رپورٹ اور کینسر کے علاج سے متعلق کچھ دستاویزات بھی جاری کیں، لیکن ان دستاویزات پر کسی اسپتال کا مونوگرام یا کوئی سرکاری مہر موجود نہیں تھی جس سے ثابت ہو کہ یہ کوئی باقاعدہ طبی بیان ہے۔
یہ رپورٹ محض چند غیر واضح نکات پر مشتمل تھی جس سے یہ بھی پتہ نہیں چل رہا تھا کہ یہ کس سال کی میڈیکل رپورٹ ہے۔
نیتن یاہو کی صحت کی تاریخ بتاتی ہے کہ جولائی 2023 میں ان کے دل میں پیس میکر یعنی دل کی دھڑکن کو کنٹرول کرنے والا آلہ لگایا گیا تھا، مارچ 2024 میں ان کا ہرنیا کا آپریشن ہوا اور دسمبر 2024 میں ان کے پروسٹیٹ کو نکالنے کی سرجری بھی کی گئی تھی۔
ماضی میں جب نیتن یاہو کو پیس میکر لگایا گیا تھا، تو اس وقت بھی حکام نے حقائق کو چھپانے کی کوشش کی تھی۔
ابتدائی طور پر ان کے دفتر اور شیبا میڈیکل سینٹر کے ڈاکٹروں نے عوام کو بتایا تھا کہ وزیرِ اعظم کو صرف شدید گرمی اور پانی کی کمی کی وجہ سے نگرانی کے لیے اسپتال رکھا گیا ہے، لیکن بعد میں پتہ چلا کہ ان کے دل کے نیچے ایک مانیٹرنگ آلہ فٹ کیا گیا ہے۔
اس واقعے کے ایک ہفتے بعد اسپتال کے ڈاکٹروں نے اعتراف کیا کہ ہم نے ان کے دل کے ٹیسٹ میں کچھ خرابیاں دیکھی تھیں لیکن اس کے باوجود ہم نے اس وقت عوام کو یہی یقین دلایا کہ وزیرِ اعظم کا دل مکمل طور پر نارمل کام کر رہا ہے۔
ان تمام پرانے واقعات کی وجہ سے اب دانتوں کے علاج کے لیے ہسپتال جانے پر بھی اسرائیلی عوام میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔













