اسرائیل کا حماس کے عسکری ونگ کے سربراہ محمد عودۃ کو شہید کرنے کا دعویٰ
اسرائیل کا اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس کے عسکری ونگ القسام بریگیڈز کے نئے سربراہ محمد عودہ کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کر دیا۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق نتن یاہو کے آفس سے جاری بیان میں کہا گیا کہ اسرائیل نے محمد عودہ کے خلاف ایک حملہ کیا ہے، جنہیں میڈیا رپورٹس کے مطابق مئی میں غزہ میں حماس کے فوجی ونگ کا کمانڈر مقرر کیا گیا تھا۔
غیرملکی میڈیا کے مطابق اسرائیلی طیاروں نے غزہ سٹی کے مصروف بازار علاقے میں ایک رہائشی عمارت کو نشانہ بنایا، جہاں عیدالاضحیٰ سے قبل خریداری کیلئے لوگوں کی بڑی تعداد موجود تھی۔ حملے کے نتیجے میں عمارت کے بالائی تین فلور مکمل طور پر تباہ ہوگئے۔
عینی شاہدین کے مطابق چند لمحوں میں مختلف اطراف سے کئی میزائل داغے گئے جبکہ امدادی ٹیموں کو شدید تباہی اور رش کے باعث متاثرہ افراد تک پہنچنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے دفتر نے دعویٰ کیا ہے کہ حملے میں حماس کے عسکری ونگ کے سربراہ محمد عودۃ کو نشانہ بنایا گیا۔ اسرائیل نے محمد عودۃ کو سات اکتوبر حملوں کے منصوبہ سازوں میں سے ایک قرار دیا ہے۔
تاہم حماس یا اسرائیلی فوج کی جانب سے تاحال یہ تصدیق نہیں کی گئی کہ محمد عودۃ حملے میں شہید ہوئے یا نہیں۔
اس سے قبل حماس کے عسکری ونگ کے سابق سربراہ عزالدین الحداد بھی مئی میں ایک اسرائیلی حملے میں شہید ہوگئے تھے۔
فلسطینی وزارتِ صحت کے مطابق 10 اکتوبر کی جنگ بندی کے بعد سے اسرائیلی حملوں میں شہید ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد 914 تک پہنچ چکی ہے جبکہ تقریباً 3 ہزار افراد زخمی ہوئے ہیں۔
حماس نے ایک بار پھر اسرائیل پر سیزفائر معاہدے کی خلاف ورزی اور شہری آبادی کو نشانہ بنانے کا الزام عائد کیا ہے۔
دوسری جانب لبنان کے جنوبی علاقوں پر بھی اسرائیلی فضائی حملے جاری ہیں۔ تازہ حملے میں مزید 31 افراد شہید جبکہ 40 زخمی ہوگئے۔
رپورٹس کے مطابق شہداء میں 4 بچے اور 3 خواتین بھی شامل ہیں۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے حالیہ اعلان کے بعد اسرائیلی فوج کی کارروائیوں میں مزید شدت آگئی ہے۔
حماس اور لبنانی حلقوں کی جانب سے اسرائیل پر سیزفائر معاہدوں کی خلاف ورزی اور شہری آبادی کو نشانہ بنانے کے الزامات عائد کئے جا رہے ہیں۔














