ایران ڈیل کرنا چاہتا ہے، ابھی تک ڈیل نہیں ہوئی لیکن ہو جائے گی: صدر ٹرمپ

ایران کی فوجی طاقت تباہ ہوچکی، امریکا میں جرائم اور غیرقانونی امیگریشن کم ہوئی، امریکی صدر کا دعویٰ
اپ ڈیٹ 27 مئ 2026 10:13pm

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی کابینہ کے اجلاس میں ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے، امریکا کی داخلی صورتِ حال اور فوجی طاقت سے متعلق متعدد اہم دعوے کیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایران معاہدہ کرنا چاہتا ہے، تاہم امریکا ابھی مکمل طور پر مطمئن نہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کابینہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور ان کے خیال میں بالآخر معاہدہ ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ’’ابھی تک کوئی ڈیل نہیں ہوئی، لیکن میرا ماننا ہے کہ ہو جائے گی، تاہم ہم ابھی مطمئن نہیں ہیں۔‘‘

صدر ٹرمپ نے ایران کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ امریکا اگر چاہے تو دوبارہ کارروائی کرسکتا ہے۔ ان کے بقول ’’ہم چاہیں تو واپس جا کر کام تمام کرسکتے ہیں اور شاید ہم ایسا نہ کریں۔‘‘

انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران شدید معاشی بحران کا شکار ہے، وہاں مہنگائی 250 فی صد تک پہنچ چکی ہے اور ایرانی کرنسی کی کوئی قدر نہیں رہی۔ امریکی صدر نے کہا کہ ایران کے پاس اب زیادہ آپشنز نہیں بچے اور وہ بارہا واضح کرچکے ہیں کہ تہران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران کی بحریہ اور فضائیہ بری طرح متاثر ہوچکی ہیں، تاہم ایرانی قیادت اب بھی سمجھتی ہے کہ وہ امریکا کو شکست دے سکتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایران نے انٹرنیٹ اس لیے بحال کیا کیونکہ ملک کی معیشت شدید دباؤ میں ہے۔

امریکی صدر نے داخلی معاملات پر بات کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ گزشتہ 12 ماہ کے دوران کوئی بھی شخص غیرقانونی طور پر امریکا میں داخل نہیں ہوسکا کیونکہ لوگوں کو معلوم ہے کہ غیرقانونی داخلے کی صورت میں انہیں واپس بھیج دیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ امریکا میں قتل کی وارداتوں میں نمایاں کمی آئی ہے اور ان کی حکومت نے ملکی تاریخ کی سب سے بڑی ٹیکس کٹوتی کی۔ ٹرمپ کے مطابق امریکی فوج اس وقت دنیا کی سب سے طاقتور فوج ہے۔ کابینہ اجلاس کے دوران ٹرمپ نے نیشنل انٹیلی جنس کی ڈائریکٹر تلسی گبارڈ کی بھی تعریف کی، جب کہ انہوں نے اس تاثر کو مسترد کیا کہ انہیں آئندہ مڈٹرم انتخابات کے سیاسی اثرات کی فکر ہے۔

کابینہ اجلاس کے دوران امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ایران سے متعلق گفتگو میں کہا کہ حالیہ واقعات نے ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے کہ ایران دنیا میں دہشت گردی کی سب سے بڑی سرپرستی کرنے والی ریاست ہے اور اسے کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

مارکو روبیو نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ امریکی صدر کی اولین ترجیح ہمیشہ سفارت کاری اور مذاکرات رہی ہے۔ ان کے بقول ’’آپ بارہا کہہ چکے ہیں کہ معاملات کو مذاکرات کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے، اسی لیے ہم اب بھی آپ کے خصوصی ایلچیوں کے ذریعے سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔‘‘

کابینہ اجلاس کے دوران امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے وینزویلا سے متعلق جاری ’’تین مرحلوں پر مشتمل عمل‘‘ کے حوالے سے اپ ڈیٹ دیتے ہوئے کہا کہ 3 جنوری سے اب تک وینزویلا کا ایک کروڑ بیرل سے زائد تیل امریکا پہنچ چکا ہے۔

روبیو کا کہنا تھا کہ وینزویلا کی تیل کی صنعت کو پہلی بار پیشہ ورانہ بنیادوں پر منظم کیا جا رہا ہے اور اس کا فائدہ وینزویلا کے عوام کو ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ تیل عالمی مارکیٹ ریٹ پر فروخت کیا جا رہا ہے جب کہ اس کی رقم امریکا میں موجود ایک اکاؤنٹ میں منتقل کی جاتی ہے، جس کی نگرانی امریکی محکمہ خزانہ کرتا ہے اور کے پی ایم جی اس کا آڈٹ کررہا ہے۔

امریکی وزیر خارجہ کے مطابق پہلی بار ایسا ہو رہا ہے کہ تیل سے حاصل ہونے والی رقم چوری نہیں ہو رہی بلکہ اسے وینزویلا کے عوام کے فائدے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔

اجلاس کے دوران امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے انکشاف کیا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پینٹاگون کو داعش کے نشانے پر موجود نائجیریا کے مسیحیوں کے تحفظ کو ترجیح دینے کی ہدایت دی تھی۔ ان کے مطابق اس خفیہ کارروائی کے دوران نائجیریا میں داعش کے دوسرے بڑے کمانڈر کو ہلاک کردیا گیا۔

ہیگستھ نے بتایا کہ اس آپریشن کے دوران حاصل ہونے والی امریکی انٹیلی جنس معلومات کی مدد سے ان داعش جنگجوؤں کے خلاف کارروائیاں کی گئیں جو مسیحیوں پر حملوں اور امریکا کی داخلی سلامتی کے لیے خطرات سے منسلک تھے۔ ان کے مطابق ان کارروائیوں میں داعش کے ’’سینکڑوں‘‘ جنگجو مارے گئے۔

امریکی وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ بہت سے ایسے اقدامات بھی کیے جاتے ہیں جن پر میڈیا کی توجہ نہیں جاتی، تاہم صدر ٹرمپ امریکی عوام کے مفاد میں محکمہ دفاع کو اہم فیصلوں کے اختیارات دیتے ہیں اور اس پر انہیں کریڈٹ ملنا چاہیے۔