ٹرمپ کی معمولی سا برگر آرڈر ڈیلیور کرنے والی خاتون کو 28000 روپے کی ٹِپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر اپنے روایتی ’ریئلٹی شو‘ اسٹائل اور فاسٹ فوڈ کی محبت کو سیاست کے لیے استعمال کرتے ہوئے سب کو حیران کر دیا۔
پیر کے روز وائٹ ہاؤس کے اوول آفس میں میکڈونلڈز کے برگرز کسی سرکاری پروٹوکول کے تحت نہیں بلکہ ایک عام ’ڈور ڈیش‘ (فوڈ ڈیلیوری سروس) ڈرائیور کے ذریعے پہنچائے گئے اور انہیں 100 ڈالر ٹپ بھی دی گئی۔
امریکی خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق آرکنساس سے تعلق رکھنے والی شیرون سیمنز میکڈونلڈز کے دو بیگ لے کر اوول آفس کے دروازے پر پہنچیں۔
میڈیا کیمروں کی موجودگی میں صدر ٹرمپ خود دروازے پر آئے، ان کا استقبال کیا اور مسکراتے ہوئے صحافیوں سے پوچھا، ”کیا یہ سب اسٹیجڈ (پہلے سے طے شدہ) لگ رہا ہے؟“
اگرچہ وائٹ ہاؤس کی سکیورٹی کے پیش نظر کسی بھی عام شہری کا صدر کے اتنے قریب پہنچنا سخت اسکریننگ کے بغیر ممکن نہیں، تاہم یہ ایک منظور شدہ میڈیا ایونٹ تھا اور اس پورے واقعے کا مقصد ایک بڑی سیاسی مہم کو اجاگر کرنا تھا۔
رپورٹ کے مطابق اس غیر روایتی ملاقات کا اصل مقصد صدر ٹرمپ کی اس ٹیکس پالیسی کی تشہیر تھی جس کے تحت ٹپس سے حاصل ہونے والی آمدن پر وفاقی ٹیکس میں رعایت دی گئی ہے۔
نئے قانون کے تحت ملازمین اپنی ٹپس کی مد میں 25 ہزار ڈالر تک کی آمدن پر ٹیکس کٹوتی کا دعویٰ کر سکتے ہیں۔ تاہم یہ سہولت زیادہ آمدن والے افراد کے لیے محدود یا ختم ہو جاتی ہے۔
حکومتی حکام کے مطابق اس اقدام کو ٹیکس ڈے سے قبل زیادہ نمایاں کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
ڈرائیور شیرون سیمنز نے بتایا کہ وہ سالانہ 11 ہزار ڈالر ٹپس سے کماتی ہیں اور اس پالیسی سے انہیں واضح مالی فائدہ ہوا ہے۔
بات چیت صرف ٹیکس تک محدود نہ رہی۔ صدر ٹرمپ نے شیرون کو 100 ڈالر کی ٹپ دی اوراور انہیں اپنے ساتھ پریس بریفنگ میں شامل کر لیا۔
جب ٹرمپ نے اندازہ لگایا کہ وہ انہیں ووٹ دیں گی، تو شیرون نے محتاط انداز میں جواب دیا، ”شاید۔“
صدر نے اپنا پسندیدہ موضوع چھیڑتے ہوئے خواتین کے کھیلوں میں ٹرانس جینڈر افراد کی شمولیت پر سوال کیا، جس پر شیرون نے کمال مہارت سے جواب دیا، ”میں یہاں صرف ٹپس پر ٹیکس کے خاتمے کی بات کرنے آئی ہوں۔“
صدر ٹرمپ نے شیرون اور ان کے شوہر کو وائٹ ہاؤس کے لان میں ہونے والے ایک آنے والے یو ایف سی ایونٹ کی دعوت بھی دی، جو وہ اپنی 80 ویں سالگرہ کے موقع پر منعقد کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
یہ پہلا موقع نہیں جب ٹرمپ نے میکڈونلڈز کو سیاست کے لیے استعمال کیا۔ اس سے قبل وہ 2019 میں چیمپئن ٹیم کی دعوت اور 2024 کی مہم کے دوران خود فرنچ فرائز اسٹال پر کام کر کے اپنی عوامی مقبولیت بڑھانے کی کوشش کر چکے ہیں۔
ملاقات کے اختتام پر صدر نے اوول آفس سے نکل کر ویسٹ ونگ کے عملے میں خود برگر اور فرائز تقسیم کیے۔ تاہم، وائٹ ہاؤس نے یہ واضح نہیں کیا کہ اس خدمت کے بدلے صدر کو اپنی ٹیم سے کوئی ’ٹپ‘ ملی یا نہیں۔
مبصرین اس اقدام کو ٹرمپ کی اس صلاحیت کا عکس قرار دے رہے ہیں جہاں وہ پیچیدہ معاشی پالیسیوں کو عام آدمی کی زبان اور روزمرہ کے واقعات (جیسے کھانا آرڈر کرنا) کے ذریعے پیش کرنے میں مہارت رکھتے ہیں۔